انسدادِ دہشت گردی عدالت کو ئٹہ نے اختر مینگل کے خلاف دہشت گردی کے دفعات کے تحت درج ایف آئی آر کالعدم قرار دے دی

26

اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آغا حسن بلوچ بھی موجودتھے ۔یاد رہے کہ سردار اختر جان مینگل کے خلاف کچھ عرصہ قبل بی وائی سی قیادت کی رہائی کے لیے کوئٹہ میں جلسہ کرنے پر دہشت گردی کی ایف آئی آر/مقدمہ درج کی گئی تھی۔عدالتی سماعت کے بعد بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر و سابق صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار ساجد ترین ایڈووکیٹ نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو

ؓٓکوئٹہ :انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کو ئٹہ ون کے جج جناب محمد علی مبین نے بلو چستان نیشنل پارٹی کے سربرا ہ سردار اختر جان مینگل کے خلاف دہشت گردی کے دفعات کے تحت درج مقدمہ کو کالعدم قرار دے دیا۔ گزشتہ روز انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ نے مقدمہ کی سماعت کے دوران ساجد ترین ایڈووکیٹ کے دلائل سننے کے بعد سردار اختر جان مینگل کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے (ایف آئی آر نمبر 83/2025)کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آغا حسن بلوچ بھی موجودتھے ۔یاد رہے کہ سردار اختر جان مینگل کے خلاف کچھ عرصہ قبل بی وائی سی قیادت کی رہائی کے لیے کوئٹہ میں جلسہ کرنے پر دہشت گردی کی ایف آئی آر/مقدمہ درج کی گئی تھی۔عدالتی سماعت کے بعد بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر و سابق صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار ساجد ترین ایڈووکیٹ نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے عدالتی فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ کٹھ پتلی حکومت نے ایسے جعلی مقدمات کے ذریعے سردار اختر جان کو اور پارٹی قیادت کو ڈرانے کی کوشش کی لیکن ہم ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ساجد ترین ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے یہ پالیسی اپنائی ہے کہ جو بھی ان کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف آواز اٹھائے، وہ ان سب کو جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایسے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں