پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات انسانی خون کے ذریعے دل کی شریانوں تک پہنچ کر ہارٹ اٹیک کا سبب بن رہے ہیں۔
اٹلی کی ساپینزا یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہمارے ارد گرد موجود پلاسٹک کے ذرات خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر دل کو متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ انسان ہر ہفتے ایک کریڈٹ کارڈ کے برابر پلاسٹک کھا رہا ہے۔
تحقیقی عمل کے دوران انجیو گرافی کروانے والے 6 افراد کے 3 گروپس بنائے گئے، جن میں ہارٹ اٹیک کے مریض، شریانوں کے سکڑاؤ کا شکار افراد اور صحت مند افراد شامل تھے۔
تحقیق کے دوران جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی کے ذریعے خون کی نالیوں کا معائنہ کیا گیا تاکہ ان میں موجود پلاسٹک کے ذرات کی سطح کا اندازہ لگایا جا سکے۔









