سلامتی کونسل میں بھارتی نمائندے کے بیان پر پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری کا کرارا جواب

14

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی نمائندے کے بیان پر پاکستان کا حق جواب میں فرسٹ سیکرٹری انصار شاہ کا مؤثر ردِعمل دیا۔

انصار شاہ نے کہا کہ جناب صدر پاکستان بھارت کے گمراہ کن بیان کا جواب دینے کے لیے دوبارہ اظہارِ خیال پر مجبور ہوا ہے کیونکہ یہ حقائق کو مسخ کرنے اور زمینی حقیقت کو غلط انداز میں پیش کرنے کی ایک بے سود کوشش ہے۔

فرسٹ سیکریٹری کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے سندھ طاس معاہدے کی بات۔ اس معاہدے میں کہیں بھی اسے نام نہاد معطل کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ بھارت کا یکطرفہ اقدام سراسر غیر قانونی ہے۔

اگست 2025 میں ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ، اس کے تنازعات کے تصفیے کے طریقۂ کار سمیت، بدستور مؤثر، قانونی طور پر لازم اور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔

پاکستان کی آبادی کو بھوک اور پانی کی قلت کا شکار بنانے کے اعلان کردہ مقصد کے تحت مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قانون اور قانونی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

یہ صورتحال علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے اور آج کے مباحثے سے مکمل طور پر متعلق ہے۔

انصار شاہ نے کہا کہ دوسری بات دہشت گردی سے متعلق بھارت کا بے بنیاد الزام دراصل پاکستان کے خلاف اس کی دہشت گردی کی سرپرستی اور مالی معاونت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ شامل ہیں نے پاکستان میں ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو شہید کیا ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

شمالی امریکہ سمیت دیگر ممالک میں ماورائے عدالت قتل کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سب کے سامنے ہیں۔ بھارت دہشت گردی کا شکار نہیں بلکہ دہشت گردی کا سرپرست ہے۔

بھارتی نمائندے کو آئینہ دکھاتے ہوئے انصار شاہ نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کا بھی مرتکب ہے، خصوصاً بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں، جہاں کشمیری عوام کو سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے حقِ خودارادیت سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔

بھارت اقوام متحدہ کے منشور، بالخصوص آرٹیکل 25، کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے، جس کے مطابق تمام رکن ممالک سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔

جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ ہی ہے۔ قابض طاقت کے کسی بھی یکطرفہ یا غیر قانونی اقدام سے جموں و کشمیر کی تاریخی، قانونی اور متنازع حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری انصار شاہ نے مزید کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنی تمام قانونی ذمہ داریاں پوری کرے، نہ کہ ان کی خلاف ورزی کرے اور مسلمہ حقائق سے انکار کرتا رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں