جماعت اسلامی بلوچستان صوبائی مجلس شوری ایک روزہ اجلاس کوئٹہ میں زیرصدارت صوبائی امیرایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

19

جماعت اسلامی بلوچستان صوبائی مجلس شوری ایک روزہ اجلاس کوئٹہ میں زیرصدارت صوبائی امیرایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ منعقدہوااجلاس میں مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے خصوصی طور پر شرکت کی اجلاس میں مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالحق ہاشمی،عبدالمتین اخونزادہ،صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ، نائب امرا زاہداختربلوچ، مولانا عبدالکبیرشاکر،ڈاکٹرعطا الرحمان، پروفیسر محمد ایوب منصور،مولانا محمد عارف دمڑ، مولانا حافظ نورعلی، حافظ مطیع الرحمان مینگل سمیت صوبہ بھر سے اراکین شوری نے شرکت کی۔

اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ظلم وجبر،ظالمانہ اقدامات غلط پالیسیوں کی وجہ سے غم وغصے میں ہے ظلم وجبر بلوچستان کے عوام کیلئے ناقابل قبول ہے بلوچستان کے سلگتے مسائل پرقومی کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بلوچستان کے مسائل کے حل،حقوق کے حصول کیلئے ایک سال قبول جماعت اسلامی کے کوئٹہ اسلام آباد لانگ مارچ حکومت چکربازی کررہی ہے۔

قومی کانفرنس کیلئے جماعت اسلامی نے قومی قیادت سے رابطے شروع کیے ہیں قومی کانفرنس کے ذریعے بلوچستان کے دکھوں کامداوامسائل کے حل کی راہ ہموارکریں گے۔بلوچستان میں فوج وایف سی کے سیاسی وغلط کردارکے حوالے سے قومی سطح پرسنجیدگی سے سوچناچاہیے یہ بلوچستان کاحق ہے۔سیاسی استحکام،حقوق،امن،روزگارکی فراہمی سے مسائل کے حل ہوسکتے ہیں۔پاکستان بڑے مسائل میں گھیراہواہے۔

سیاسی معاشی بحران وبال جان بناہواہے۔خیبرپختونخواہ وبلوچستان کے حالات گھمبیرہیں۔بلوچستان کے حالات پرپورے ملک اوربلخصوص جماعت اسلامی کے ہرسطح پرتشویش پائی جاتی ہے بلوچستان میں ہرشخص کوخطرات لاحق ہیں اس کے باوجود جماعت اسلامی کی سیاسی نظریاتی فلاحی جدوجہد جاری ہے جماعت اسلامی کی جدوجہد وقتی جذباتی نہیں نظریاتی جدوجہد ہے حالات کے ردعمل میں جذبات بھی آرہیہیں ہم سب حالات کی سنگینی محسوس کررہے ہیں سیاسی قیادت کوبائی پاس کرکے اسٹبلشمنٹ بالادستی قائم رکھنے کیلئے مختلف حربے استعمال ومختلف پراجیکٹس لانچ کررہے ہیں جماعت اسلامی سخت ترین حالات میں بھی کردارسازی تربیت سازی واسلامی نظام کی جدوجہد نہیں چھوڑے گی۔

گھمبیر حالات میں بھی جماعت اسلامی بڑی قوت بنے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیرصوبہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ ذمہ داران طے شدہ منصوبہ بندی پرعمل کریں جماعت کیلئے افرادی قوت میں اضافے کیساتھ مالی اعانت بھی جمع کریں جماعت اسلامی کابیانیہ عوامی مفادات حقوق کے حصول اورظلم وجبرکے خاتمے کابیانیہ ہے۔جماعت اسلامی کے خلاف عوام میں سازش کے تحت جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے نفرت پھیلائی گئی اس پروپیگنڈے کوعوامی قوت وتائیدوبہترین کارکردگی پارلیمانی سیاسی سماجی خدمات عملی کام سے ناکام بنائیں گے۔

ہم بلوچستان میں چودہ ہزاربچوں کوزیورتعلیم سے آراستہ کررہے ہیں یتیموں کی کفالت کررہے ہیں یہ کام بلوچستان میں کوئی مذہبی قوم پرست ودیگرپارٹیاں نہیں کررہے ہماری سیاست سیاسی جذباتی نعروں جھوٹ وپروپیگنڈے کی بنیادپرنہیں کام کام وعملی کام جدوجہدپرہیں۔بلوچستان کے عوام کیلئے سب سے زیادہ عملی جدوجہد وقربانیاں جماعت اسلامی نے دیے ہیں دیتے رہیں گے۔

اجلاس میں زیارت ،ہنہ اوڑک ودیگرشہدا کی مغفرت درجات کی بلندی زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔اجلاس میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال، بدامنی،زیارت وہنہ اوڑک دھرنا، بارڈرز،تجارت،شاہراہوں کی بندش، شاہراہوں پرٹرکوں کوجلانے ،پہاڑوں سے لاشوں کی برآمدگی،سول وسیکورٹی کے لوگ ومسافروں کی ٹارگٹ کلنگ،ریاست کی جانب سے مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال،سیاسی کارکنوں کی گرفتاری،ماورائے عدالت وآئین لوگوں کوغائب کرنے،عدالتی انصاف سے محرومی سمیت تعلیم،صحت وروزگار،قلت آب کے مسائل کے حوالے تبادلہ خیال، مشاورت وفیصلے کیے گیے۔

اجلاس میں جماعت اسلامی کے صوبائی تنظیمی صورتحال، ششماہی منصوبہ عمل ،ممبرسازی مہم ودیگرفیصلوں پرعمل درآمد اوررپورٹس ،تنظیمی بجٹ پیش کرنے کیساتھ دیگرامور کاجائزہ لیاگیا۔اجلاس میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال کاتجزیہ اورآئندہ لائحہ کے حوالے سے اراکین تجزیہ وقراردادیں پیش کی گئی۔سابقہ حقوق کے حصول کیلئے جماعت اسلامی کاکوئٹہ اسلام آباد لانگ مارچ کاجولائی میں ایک سال مکمل ہونے مطالبات پرعمل درآمد نہ ہونیپرآئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے بھی مشاورت وفیصلے کیے گیے۔

دیگرذمہ داران نے خطاب میں کہا کہ بلوچستان میں روزگار نہیں،بارڈرزبندش کی وجہ سے دس لاکھ افرادمتاثروبے روزگارہوئے ہیں،بجلی لوڈشیڈنگ،خشک سالی،حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے زراعت تباہ ہوگئی ہے سول مذاہمت،دھرنے واحتجاج صوبہ بھر میں جاری ہے صوبائی حکومت بے اختیار سیاسی جمہوری پارٹیاں کھل کرسامنے نہیں آرہے۔انہوں نے کہا کہ امن بلوچستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے اورایف سی خوف ودہشت کی علامت بم گئی ہے قومی سطح پرامن کے قیام کیلئے مشاورت، مذاکرات جرگہ قومی کانفرنس کی ضرورت ہے۔

بلوچستان امن کیساتھ ترقی کرسکتی ہے لیکن جنگ کے ذریعے امن وترقی ممکن نہیں اورانصاف سیاسی اعتماد سازی کیساتھ آسکتی ہے۔ایف سی دردسربنی ہوئی ہے۔سب کچھ بیرونی مداخلت یامزاحمتی تنظیموں پرڈال کرحکومت و فورسزبری الزمہ نہیں ہوسکتی۔چوروں لٹیروں کی سرپرستی بندکی جائے۔سارے بلوچستان کے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔پارلیمنٹ سیاسی جماعتوں کونظراندازکرکے زورزبردستی امن قائم ہوسکتاہے نہ عوامی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔پاکستان کوبچانے کیلئے بلوچستان کے بچاو کیلئے مخلصانہ عملی وفوری جدوجہد کی ضرورت ہے ساحل ووسائل کی وجہ سے بلوچستان کے عوام سے امن معدنیات ترقی کے مواقع چھین کربدامنی پھیلائی گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں