سعودی عرب نے پاکستان کا 3 ارب ڈالر قرض رول اوور کر دیا، وزیر خزانہ

28

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے حاصل کیا گیا 3 ارب ڈالر کا قرض کامیابی سے رول اوور ہو گیا ہے جس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر موجودہ سطح پر برقرار رہیں گے۔

جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے سعودی قرض کی تجدید سے متعلق سوال کے جواب میں مختصر انداز میں کہا سب ٹھیک ہے،سعودی عرب نے رواں سال اپریل میں پاکستان کو تین ماہ کے لیے 3 ارب ڈالر کا قرض فراہم کیا تھا تاکہ پاکستان متحدہ عرب امارات کا واجب الادا قرض واپس کر سکے۔

یہ قرض رواں ہفتے کے آغاز میں میچور ہو گیا تھا، تاہم وزارتِ خزانہ کی جانب سے اس کی تجدید کے بارے میں گزشتہ ایک ہفتے سے کوئی باضابطہ وضاحت نہیں دی گئی تھی۔

محمد اورنگزیب گزشتہ ہفتے وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری کے ہمراہ سعودی عرب گئے تھے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مالی اور اقتصادی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وطن واپسی کے بعد وزیرِ خزانہ کی جانب سے سعودی قرض کی تجدید کے حوالے سے یہ پہلا عوامی بیان سامنے آیا ہے۔7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ستمبر اگلے سال تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اپنے مجموعی 12.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس برقرار رکھیں گے۔

بعد ازاں متحدہ عرب امارات نے اپنی مالی معاونت واپس لے لی، جس کے بعد سعودی عرب نے اپنا تعاون بڑھاتے ہوئے پاکستان کے لیے مجموعی ایکسپوڑر 8 ارب ڈالر تک پہنچا دیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت بیرونی قرضوں کی مدت بڑھانے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم پاور پلانٹس کے لیے چینی کمپنیوں کو واجب الادا توانائی قرضوں کی ادائیگیوں کو مرحلہ وار کرنے کے مختلف آپشنز پر بھی کام کر رہی ہے۔

اسی دوران پاکستان نے سعودی عرب سے 15 سال کی مدت کے لیے 6.7 ارب ڈالر کی موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت فراہم کرنے کی بھی درخواست کی ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

دریں اثنا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں 1,300 سے زائد خالی اسامیوں کا معاملہ بھی زیرِ غور لایا، جو ادارے کی منظور شدہ افرادی قوت کا تقریباً 38 فیصد بنتی ہیں۔

اجلاس کے دوران وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کے درمیان اس معاملے پر اختلافِ رائے سامنے آیا۔

وزیرِ خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ قائمہ کمیٹی برائے تخفیفِ غربت کے سپرد کیا جانا چاہیے، جبکہ روبینہ خالد نے کہا کہ چونکہ وزارتِ خزانہ نے بھرتیوں کی مخالفت کی تھی، اس لیے معاملہ خزانہ کمیٹی میں لایا گیا۔

روبینہ خالد نے بتایا کہ بی آئی ایس پی میں 2014 کے بعد کوئی نئی بھرتی نہیں ہوئی، جس کے باعث ادارے کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب وزیرِ خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال بی آئی ایس پی کے 838 ارب روپے کے تمام فنڈز ڈیجیٹل طریقے سے تقسیم کیے جائیں گے، اس لیے نئی بھرتیوں کی ضرورت نہیں بلکہ قدرتی طور پر افرادی قوت میں کمی (Attrition) کی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ نئی بھرتیوں کی ضرورت کا جائزہ لینے کے لیے یہ معاملہ اخراجات میں کفایت شعاری سے متعلق کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی کی منظور شدہ افرادی قوت تقریباً 3,486 ہے، جن میں سے لگ بھگ 1,300 آسامیاں اس وقت خالی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں