قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وپشتونخوامیپ کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے سانحہ زیارت کے خلاف کوئلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے دفاع قوم کی خودمختاری ،عزت وآبرو ،تعلیم وترقی کے لیے متحد ہونا ہوگا ،5سال پہلے کہا تھا کہا آئیں متحدہوجائیں،اکابرین پر حملے ہورہے ہیں ، مولانا فضل الرحمن ، اسفندیار ولی خان ، آفتاب شیرپائو ان سب پر حملے ہوئے ،ان سب کا کیا قصور تھا زمانوں سے ہماری لہو کو بہایا جارہا ہے اور آج کہتے ہیں پشتون دہشت گرد ہیں ،سرفراز بابو آپ کی ساری حکومت ان لوگوں کی قاقتل ہیں،حکومتی مذاکراتی ٹیم اگر جوڈیشل کمیشن کو مان لیں اس کے لیے ضروری ہے کہ چیف سیکرٹری ، سیکرٹری داخلہ ، ڈپٹی کمشنر کو پہلے اپنے عہدوں سے ہٹانا ہوگا پھر تحقیقات ہوں گی ، DC، سیکرٹری داخلہ ، کمشنر ، چیف سیکرٹری یا کوئی بھی یہ ہمارے قاتل ہیں، پشتون افغان وطن اپنے بڑے طاقتور ہمسایوں کے درمیان واقع ہے ، ہم پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے پاکستان ہمارا ملک ہے،پشتون قوم یہ اہلیت اور صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ اپنے وطن کا دفاع کرسکیں، تمام پشتونوں کا جرگہ بلانا ہوگا۔
پشتونوں کا ایک جرگہ یہاں اور اسی دوران میں ایک جرگہ چترال سے لیکر ہزارہ ،کشمیر ، وزیرستان ،سوات اور یہاں کے پشتونوںکا ایک بڑا مشترکہ جرگہ جو کہ دو تین دن جاری ہو جس میں سب مل بیٹھ کر ایک فیصلہ کریں اور پاکستان سے یہ کہہ دیں اگر برابری کی بنیاد پر بات کرنی ہے تو یہ گارنٹی دینی ہوگی کہ پشتون اس ملک میں برابر سیال ہوگا۔سوات ، وزیرستان لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا گیا، ان گھروں ، مارکیٹوں کو مسمار کرکے کرکٹ کے میدان بنائے گئے ، دنیا کا کوئی بھی ملک اگر معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو یہاں کے عوام سے کرنا ہوگا ،جس سرزمین میں جو بھی معدنیات دریافت ہو وہاں کے رہنے والے بچوں اور اس زمین کے مالکوں کے ساتھ بات کریں ۔
دنیا کے قوانین کی طرح ان کو جو حصہ بنتا ہے وہ انہیں دیں باقی آپ بے شک نکالیں ۔گلستان ، قلعہ عبداللہ اور دیگر اضلاع میں لاکھوں ٹن افیون تریاق کی فصل پوست بوئی گئی ہے باقاعدہ فی ایکڑ کے حساب سے رقم لی جاتی ہے ،یہاں لوگ آکر آپ کو 100افراد دینگے راہداریاں دینگے بس لڑتے رہو ۔ ہمیں دوسروں کے کہنے پر خود کو برباد نہیں کرنا ہوگا، جو پشتون افغانستان کی آزادی ،خودمختاری اور استقلال پر خفا نہیں ہوتا وہ نہ مسلمان ہے اور نہ ہی پشتون ۔
پشتونخوا وطن میں رہنے والے تمام عوام کا پشتونخوا وطن میں اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارا ہے یہ ہمارے وطن کا حصہ ہیں ہمارے بھائی ہیں ۔جو آئین کو چھیڑتا ،توڑتا ہو یا آئین کو نہیں مانتا وہ سب غدار اور اس ملک کے دشمن ہیں ،ابھی تو یوں لگتا ہے کہ یہ ہارڈ سٹیٹ جو آپ کی حکومت آپ کے ظلم کے خلاف بولتا ہو اسُے ختم کرو اُسے گولی مارو ۔ کسی لشکر کی سربراہی ،بادشاہی نہیں چاہتا ، میں کسی جرنیل ، آئی ایس آئی یا ایم آئی کے ساتھ آشکارہ یا چھپا تعلق نہیں رکھونگا آپ بھی مجھے یہ باور کرادو بس آپ آگے ہو میں آپ کا ساتھ دونگا۔
ہماری فوج اورایجنسیوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بس ہم چاہتے ہیں کہ جس طرح دنیا کی فوجیں گزارہ کرتی ہیں پاکستانی فوج کو یہ ماننا ہوگا ۔ سردار اختر جان مینگل صاحب جس طرح گوادر کی زمینوں کو غیر بلوچوں کے نام الاٹ کیا گیا ہے یہ غلط ہے اسی طرح پشتونوں کے تاریخی زمینوں کی غیر پشتونوں کے نام الاٹ کرنے سے باز آنا ہوگا یہ الاٹمنٹ بھی غلط ہے اسے ہم کسی صورت نہیں مانتے۔
یہ سب الاٹمنٹ کینسل کرنے پڑینگے۔ مائنز اینڈ منرل بل کینسل کرنا پڑیگا پھر مل بیٹھ کر بات کرینگے۔ اگر بندوق کے زور پر ہماری زمینیں قبضہ ہونگی تو ٹھیک ہے ہم نہ بندوق اٹھائینگے نہ لڑینگے ہم اپنی تنظیم اور صفوں کو برابر کرینگے ۔سرفراز بگٹی صاحب آپ تکلیف میں تھے ہم تب آپ کے ساتھ کھڑے تھے ، پھر اختلافات کے باوجود جبر اکبر بگٹی پر ظلم ہورہا تھا وہ مظلوم بنے تو ہم نے اُن کا ساتھ دیا ، ہم ہر ظالم اور مظلوم کی جنگ میں مظلوم کے ساتھ بنے ہیں اور ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دینگے ، بلوچ ماما اس صوبے میں پشتونوں کے حقوق کو ماننا ہوگا۔
یہ جو ضلعوں ، تحصیلوں اور ڈویژنز کے نام پر جو کچھ آپ کررہے ہو یہ ٹھیک نہیں ۔ برٹش بلوچستان میں پشتونوں کی جو سرزمین تھی اسے یہاں وہاں شامل۔ زمینوں کی غلط انتقال اورالاٹمنٹ نہ کریں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اب باتوں کا وقت گزر چکا اب وقت عمل آن پہنچا ہے اور عمل بھی بڑی احتیاط باہمی مشورے اور بڑے منظم انداز میں اپنی صفیں باندھنی ہوگی۔
ایسی بات بھی نہیں کہ پشتون قوم ریت کی دیوار ہے جس نے چاہا آسانی سے گردینگے اس ارمان کو پورا کرنے میں ہزاروں سال گزرچکے ہیں لوگوں نے کوششیں کی ہیں لیکن یہ ارمان کسی کا پورا نہیں ہوا اور نہ ہی اب کبھی پورا ہوسکے گا ۔ آج زیارت کا یہ درد ناک واقعہ اس کی بنیاد ہی بہت بڑی قربانی ہے ہمارے شہدا آج یہاں پڑے ہوئے ہیں ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شہدا انہیں دفنانے کی جلدی کرو ، میں درخواست کرتا ہوں بتانا چاہتا ہوں کہ 28فروری کو ایران کا سب سے بڑا مذہبی پیشوا اپنے خاندان سمیت شہید ہوا ۔
مارچ ، اپریل ،مئی ، جون کے چار مہینے یعنی چار مہینے تین دن شہدا کو اپنے چھوٹے بچوں سمیت ایرانیوں نے رکھا اور اس لیے رکھے تھے کہ دنیا کو اپنا ارادہ دکھا سکیںاور پھر اپنے شہیدوں کووالہانہ انداز میں دفنایا جس میں کرورڑوں افراد نے شرکت کی ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سرفراز بگٹی صاحب کو یہ جلدی ہے کہ بس آپ لوگ جلدی کرکے اپنے شہدا کو یہاں سے اُٹھالیں ہماری بات صرف ان شہدا تک محدود نہیں بلکہ اس قوم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس قوم کے ہزاروں ایکڑ سرزمین کو آپ نے انتقال کیا ہے جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کے قدرتی خزانے ہیں آپ نے ارادہ کیا ہوا ہے کہ اسے لوٹ لیں ۔
کل سے یہ بات چل رہی تھی کہ کسی نے یہ سوچھا تھا کہ اس دھرنے کو زبردستی یہاں سے ہٹالیں گے ۔ میں کہتا ہوں زبردستی نہ کریں آئیں ہمیں کہہ دیں ہم خود ہی اٹھالیں گے ۔ لیکن پھر پورے صوبے میں دھرنے ہی دھرنے ہوں گے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی یہ ہے کہ تمام پارٹیوں کے اکابرین کی ابھی میں نے جو تقاریر سن لیں تو یہ خوشی ہوئی کہ ایک ماہر نے کہا تھا کہ جب آپ اپنے دشمن کو پہچان لیں توسمجھیں کہ آدھی جنگ آپ جیت چکے ہیں۔
تمام تقاریر میں یہ بات واضع تھی کہ ہمارے دشمن کو اب سب نے پہنچا ن لیا ہے اور باقی ماندہ آدھی جنگ اپنی تنظیم اپنی صفیں برابر کرنے اور پاک گوئی سے جیتی جاتی ہے ۔ محمود خا ن اچکزئی نے کہا کہ خوشحال خان کہتا ہے کہ ایک ایسا کمیشن بنایا جائے میں پوچھتا ہوں کہ ایسا جج ہے کہاں جو اس جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہو ۔ جو کسی کو یہ کہہ سکے میری تجویز ہے کہ آج جو کمیٹی گئی ہے حکومت سے مذاکرات کرنے اور وہ جوڈیشل کمیشن کو مان لیں اس کے لیے ضروری ہے کہ چیف سیکرٹری ، سیکرٹری داخلہ ، ڈپٹی کمشنر کو پہلے اپنے عہدوں سے ہٹانا ہوگا پھر تحقیقات ہوں گی ۔
یہ قاتل ہیں ہمارے بچوں کے ان قاتلوں کو ہٹانا ہوگا ان کی موجودگی میں کوئی بھی تحقیق نہیں کرسکتا پھر ان بچوں نے جن ذمہ داروں کو ٹیلی فون کیئے ہیں وہ کون ہیں ۔ DC، سیکرٹری داخلہ ، کمشنر ، چیف سیکرٹری یا کوئی بھی یہ ہمارے قاتل ہیں ۔ ان لوگوں نے ہمارے بچوں کو مارا ہے ہمارے بچے مارنا اتنی آسان نہیں ۔ پانچ سال پہلے میں نے تمام پارٹیوں کو درخواست کی تھی میں نے مولانافضل الرحمن صاحب سے کہاتھا کہ آپ نے کیا گنا کیا تھا کہ دومرتبہ آپ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ۔
آفتاب خان شیر پائو کا کیا قصور تھا کہ دو مرتبہ ان پر حملہ ہوا۔ جس میں 99انسان شہید ہوئے وہ ان کا بیٹا بچ نکلے پھر حملہ کیا 4لوگ شہید ہوئے ۔ مولانا صاحب پر آخری حملہ کوئٹہ میں کیا گیا بلٹ پروف گاڑی مکمل تباہ ہوئی ۔ یہ باتیں میں نے آفتاب شیر پائو کو کبھی کہی ہیں ، اسفند یار ولی خان اپنے گھر میں تھے گھر کے اندر بندہ داخل ہوا ، اسفند یار خان کے سیکورٹی گارڈ نے انہیں روکا وہ پھٹ گیا اور سیکورٹی گارڈ کو شہید کیا ۔
اسفند یار خان بچ گئے اور راوالپنڈی چلے گئے ۔ میں اُس قت بھی یہ بات کررہا تھا ۔ آئیں متحد ہوجائیں ، کیوں لوگ ہمیں ماررہے ہیں ہمارے وطن میں انسان کا قتل 2صورتوں میں جائز ہے ایک یہ کہ کسی نے کسی کا قتل کیا ہوگا یا کوئی کسی کے گھر میں داخل ہوا ہوگا۔ میں نے کہا کہ تھا کہ یہ تو سب غریب لوگ ہیں نہ کسی کو مارا ہے نہ کسی کے گھر میں داخل ہوئے ہیں اصل میں یہ لوگ چاہتے ہیں اس قوم کے دس بیس افراد کو مار ڈالو یہ بیٹھ جائیں گے اور رہبری سے محروم ہونگے۔
یہ قوم ایسی قوم نہیں یہ ہماری قسمت ہے کہ ہم خون میں مزل کررہے ہیں جب ایک دشمن سے فارغ ہوتے ہیں پھر دوسرے دشمن کا سامنا ہوتا ہے ۔ زمانوں سے ہماری لہو کو بہایا جارہا ہے اور آج کہتے ہیں پشتون دہشت گرد ہیں ۔ پشتونوں پر پہلی دہشت گردی عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش سے بھی پہلے یورپ نے کیا جو آج دعویٰ کررہے ہیں کہ ہم انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔
یہ دہشت گردی سکندر یونانی جو بڑے فلسفی ،ارسطو کے شاگرد اور سقراط کے وقت کے یونان جو دنیا کو تہذیب سکھانے کے دعوے دار تھے دنیا کو فلسفے سکھارہے تھے ۔ پہلی دہشت گردی اسی سکندر الیگزینڈر نے ایران کی طرف سے داخل ہو کر سوات سے نکلے اُسی وقت سے لیکر آج تک جس کا بھی دل چاہا ہمارے وطن پر حملہ آور ہوا ہے ہر تیس سال بعد کوئی نہ کوئی بڑی طاقت پشتون افغان وطن پر حملہ آور ہوتی ہے اس قوم کو ایک دن کے لیے بھی اپنی تنظیم بنانے یا خود کو سنبھالنے ترقی کرنے کے لیے کسی نے نہیں چھوڑا ۔
اور یہ اس لیے کہ اس قوم میں یہ اہلیت اور یہ جراء ت نظر آتی رہی اُنہیں کہ اس قوم کے جرگے ان کی تنظیم ان کی زندگی کو دیکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ اس خطے کو اسی قوم نے سنبھالنا ہے اور یہ تاریخ کا حکم ہے کہ جتنا بھی ہمیں قتل کرو پھر بھی اس وطن پرسوائے پشتون افغان کسی کا اختیار ممکن نہیں ۔محمودخان اچکزئی نے کہا کہ پشتونوں نے زمانوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ پشتون افغان وطن اپنے بڑے طاقتور ہمسایوں کے درمیان واقع ہے جس کے شمال میں روس اور ماوراالنہر ہے دوسری طرف عرب اور ایران ہیں ۔
دائیں طرف چین اور نیچے ہندوستان ۔ تعداد کے لحاظ سے ہم دنیا کے مقابلے میں چھوٹی قوم ہے لیکن پوری تاریخ میں کسی بھی تاریخ دان نے یہ نہیں لکھا کہ پشتون نے کبھی چین کے لیے روس کی ایجنٹی کی ہے نہ چین کے لیے ایجنٹ بنے ہیں ۔ ہندوستان کے لیے یا پھر ہندوستان کے ایجنٹ بنے ہیں ۔ بلکہ اس قوم نے سرخرو ہوکر وقت گزارا ہے اور اسی حالت میں پوری ہندوستان پر بادشاہتیں بنائی تھیں۔
حکمرانی کرتے چلے آئے ہیں یہ موجودہ پاکستان جو آج ہمیں تنگ کررہا ہے اور یہ موجودہ ہندوستان دونوں جو آج ایٹمی قوت ہے یہ دونوں ہماری حکمرانی کے نیچے رہ چکے ہیں۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ ہم پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے پاکستان ہمارا ملک ہے ، یہ 78سال کا ہوچکا ہے ، یہ پانچ اقوام پشتون ، بلوچ، سندھی ، سرائیکی ،پنجابی ہزاروں سالوں سے اپنے اپنے تاریخی وطنوں کے مالک ہیں یہ سرزمین ہماری ہزاروں سالوں سے مسکن ومدفن رہ چکا ہے ۔
ہمارا وطن دنیا جہاں کی قدرتی نعمتوں سے بھرا پڑا ہے دنیا نے ہمارے وسائل دیکھے اور جانچے ہیں ۔اور ان کے ارادے ہمارے وسائل کو لوٹنے کے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہم زبردستی ان کی سرزمینوں پر قابض ہوکر ان کے وسائل لوٹ لینگے اور یہ کام وہ دنیا میں کر بھی چکے ہیں ۔ دنیا کے آزاد مملکتوں میں جاکر ان کے صدور کو زندہ گرفتار کرکے لے گئے ہیں ۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں وقت سے پہلے تیاری کرنی ہوگی اب بھی دیر نہیں پشتون قوم یہ اہلیت اور صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ اپنے وطن کو سنبھال سکیں اپنے مٹی کی دفاع کرسکے۔
میں آج بھی یہ کہتا ہوں نہ یہاں عدالت ہے نہ حکومت نہ انصاف ہے نہ وہ اسلام ہے جو قرآن کہتا ہے یہاں سب فراڈ دھوکہ اور بدمعاشی ہے ۔ امن کے لیے یہ دھرنا جاری رہیگا لیکن تمام پشتونوں کا جرگہ بلانا ہوگا۔پشتونوں کا ایک جرگہ یہاں اور اسی دوران میں ایک جرگہ چترال سے لیکر ہزارہ ،کشمیر ، وزیرستان ،سوات اور یہاں کے پشتونوںکا ایک بڑا مشترکہ جرگہ جو کہ دو تین دن جاری ہو جس میں سب مل بیٹھ کر ایک فیصلہ کریں اور پاکستان سے یہ کہہ دیں اگر برابری کی بنیاد پر بات کرنی ہے تو یہ گارنٹی دینی ہوگی کہ پشتون اس ملک میں برابر سیال ہوگا۔
محمودخان اچکزئی نے کہا کہ ان کے ارادے بڑے خطرناک ہیں لوگوں کو بے گھر کرنا ان کے لیے آسان ہے انہوں نے پورے سوات کو اس طرح اپنے وطن سے نکالا کہ سوات میں ان کے پالے ہوئے لوگ گھروں پر فائرنگ کرتے اور یہ لوگ خود پہاڑوں پر گولیاں برساتے رہے ۔ جس کے نیتجے میں سوات کے لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ۔ مسعود قبیلے کے چندافراد پر یہ الزام تھا کہ وہ دہشت گرد ہیں مسعود آبادی میں بہت زیادہ ہیں سب کو دہشت گرد کہا ۔
ان کے سپین کئی رغزئی کو جہازوں کے ذریعے بمبار کیا گیا ۔ ہزاروں گھروں کو بمباریوں سے مسمار کیا گیا ۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بازاروں ، دکانوں اور مارکیٹوں کو مسمار کیا گیا کیا مارکیٹیں بھی دہشت گرد تھیں آج ان مارکیٹوں کو گرائونڈ بنا کر اس پر کرکٹ کھیل رہے ہیں ، ہمارے وطن میں بڑے گائوں ،100گھروں سے زیادہ نہیں چھوٹے گائوں دس بیس پچاس گھروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
ہم مل بیٹھ کر پوری دنیا کو کہہ دینگے فرانس ، امریکہ ، چین ،برطانیہ سب سے کہہ دینگے کہ جس حکومت کے ساتھ آپ ہمارے وطن کے وسائل کا سودا کررہے ہو یہ آپ کو بھی اور ہمیں بھی پتہ ہے کہ انہیں کسی نے ووٹ نہیں دیا ۔ انہوں نے زر اور زور کے ذریعے ووٹوں کو چراکر حکومت پر قابض ہوئے ہیں ۔ ہم ان کے کسی بھی معاہدے کے ذمہ دار نہیں ۔ ہم ان بڑی قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ جس چور حکومت نے آپ کے ساتھ ہمارے وطن کا سودا کیا ہے ، مہربانی کریں ۔
یہاں مت آئیں یہ حکومت اس وطن کا مالک نہیں بلکہ اس کے مالک یہ عوام ہیں ۔ ہمارے ساتھ معاہدہ کریں ،یاپاکستان کے ذمہ دار ہمارے ساتھ معاہدہ کریں یعنی جس سرزمین میں جو بھی معدنیات دریافت ہو وہاں کے رہنے والے بچوں اور اس زمین کے مالکوں کے ساتھ بات کریں ۔ دنیا کے قوانین کی طرح ان کو جو حصہ بنتا ہے وہ انہیں دیں باقی آپ بے شک نکالیں ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ باجوڑ گدون امازئی اور پشتونخوا وطن کے دیگر حصوں میں افیون (پوست) کی فصل پر درجنوں افراد کو گولیاں ماری گئی کہ آپ نے کیوں افیوم کی فصل بوئی ہے اور آج آپ کے حکم سے گلستان ، قلعہ عبداللہ اور دیگر اضلاع میں لاکھوں ٹن افیوم تریاق کی فصل پوست بوئی گئی ہے باقاعدہ فی ایکڑ کے حساب سے رقم لی جاتی ہے ۔
ہم اپنے قبائل سے گزارش کرتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کے پاس آئینگے اور کہینگے کہ آپ کو 100افراد دینگے راہداریاں دینگے بس لڑتے رہو ۔ ہمیں دوسروں کے کہنے پر خود کو برباد نہیں کرنا ہوگا یہ ہماری ذمہ داری ہے اگر کہیں دہشت گرد ہیں آپ کہتے ہو کہ ہیں تو فوج ہے ، ملیشیاء (ایف سی) ہیں فورسز ہیں یہ آپ کا کام ہے آپ نے سنبھالنا ہوگا جن لوگوں کو آپ لائے ہو انہیں خود سنبھالو ۔
کل ایک آدمی آیا تھا اُنہیں کہا گیا تھا کہ ہم آپ کو 100افراد دینگے ۔ انہیں سنبھالو ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جو پشتون افغانستان کی آزادی ،خودمختاری اور استقلال پر خفا نہیں ہوتا وہ نہ مسلمان ہے اور نہ ہی پشتون ۔ افغانستان کے حوالے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے پاکستان، افغانستان اور تمام ہمسایوں کی کانفرنس بلائیں جس میں پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے شکایات، خدشات پر سیر حاصل گفتگو ہو اور نتیجے میں ایک ایسامعاہدہ تشکیل پائے جس سے دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کا خاتمہ ، ایک دوسرے کی استقلال وخودمختاری کو تسلیم کرنے اور ان کے درمیان معاہدے کے ضامن سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک ہو۔
محمودخان اچکزئی نے کہا کہ پشتون جنوبی پشتونخوا کے ہو یا شمالی شتونخوا یا وسطی پشتونخوا کے ہو یہ اس پشتونخوا وطن کے بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں ا ن کے ساتھ جو اقلیتیں یہاں ہندکو ، فارسی ، ضلع ہزارہ کے لوگ ، گجر ، گلگتی ، چترالی ، ہزارہ ، کوھستانی وغیرہ ہیں ان سب کا پشتونخوا وطن میں اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارا ہے یہ ہمارے وطن کا حصہ ہیں ہمارے بھائی ہیں ۔
پشتونخوا وطن میں سکھ ، ہندو ، عیسائی یا جو بھی رہتا ہو اُس کا اس وطن پر حق ہے پاکستان کا آئین اُس آدمی کو غدار کہتا ہے جو آئین کو چھیڑتا ،توڑتا ہو یا آئین کو نہیں مانتا وہ سب غدار اور اس ملک کے دشمن ہیں جو آئین کو چھیڑتا ہے جو آئین پر عملدرآمد نہیں کرتا جس نے آئین کی دفاع کا حلف بھی لیا ہو اور اس کے باوجود اسے نہیں مانتا آئین میں ان سب کے لیے سزا متعین ہے وہ بدترین سزا کے حقدار ہیں۔
ابھی تو یوں لگتا ہے کہ یہ ہارڈ سٹیٹ جس کی معنی یہ ہے کہ جو آپ کی حکومت آپ کے ظلم کے خلاف بولتا ہو اسُے ختم کرو اُسے گولی مارو ۔ پنجاب میں تحریک لبیک والوں کو مارا ، اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے بچوں کو سرعام گولیاں پیوست کرکے شہید کیا گیا ۔ طالب علموں اور وزیر ، مسعود ، وزیرستان اور تیراہ میں لوگوں کو مارا گیا۔ اب تو ایسے لگتا ہے کہ پاکستان کے آئین اور پاکستان کو بچانے کی ذمہ داری بھی ہم پر ہے کیونکہ ان کی حرکتوں سے لگتا ہے کہ ملک نہیں چلانا چاہتے اگر آپ نے اس ملک کو خامخواہ توڑنا ہے تو پھر قتل وقتال کیوں ً پٹواریوں کو بلائینگے مل بیٹھیں گے اور پشتون ، بلوچ ، سندھی ، سرائیکی ، پنجابی کے سرزمینوں کو خوشی سے الگ ہو جائینگے۔
اگر تورنا چاہتے ہو اس طرح نہیں کرنا کہ آپ لوگوں کو قتل کرتے رہو ۔ محمود خان اچکزئی نے دھرنے کے تمام شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نہ اس لشکر کی سربراہی چاہتا ہوں نہ بادشاہی ، بس ایک بات قرآن پر میں کلمہ پڑھ کر آپ کو کہہ دونگا کہ میں نہ کسی جرنیل ، آئی ایس آئی یا ایم آئی کے ساتھ آشکارہ یا چھپا تعلق نہیں رکھونگا آپ بھی مجھے یہ باور کرادو ۔
بس آپ آگے ہو میں آپ کا ساتھ دونگا۔ جس نے بھی آنا ہے آگے آئیں لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم یہاں بھی ہوں اور وہاں بھی ۔ ہم سب نے خود کو صاف کرنا ہوگا۔ ہماری فوج اورایجنسیوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بس ہم چاہتے ہیں کہ جس طرح دنیا کی فوجیں گزارہ کرتی ہیں پاکستانی فوج کو یہ ماننا ہوگا ۔ محترم حافظ صاحب نے بھی اس طرح گزارہ کرنا ہوگا جس طرح امریکن فوج، برطانوی فوج اور دیگر ممالک کی فوجیں گزارہ کرتی ہیں ۔
سیاست میں مداخلت سے باز رہنا ہوگا۔ اپنی حلف کی پاسداری کرنی ہوگی ۔یہ باتیں ہم نے 1993سے قومی اسمبلی کے فلور پر کہیں ہیں ۔ کہ جس دن فوجیں حکومتوں پر قابض ہوئیں پاکستان کے عوام نے سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے سردار اختر جان مینگل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اختر جان مینگل نے گلے کیئے تھے میں گلہ نہیں کرتا لیکن اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح آپ کہتے ہو کہ گوادر کی زمینوں کو غیر بلوچوں کے نام الاٹ کیا گیا ہے یہ غلط ہے تو اسی طرح اپنے بلوچ آفیسروں کو سمجھائیں کہ پشتونوں کے تاریخی زمینوں کی غیر پشتونوں کے نام الاٹ کرنے سے باز آجائیں یہ الاٹمنٹ غلط ہے اسے ہم کسی صورت نہیں مانتے ۔
یہ سب الاٹمنٹ کینسل کرنے پڑینگے۔ مائنز اینڈ منرل بل کینسل کرنا پڑیگا پھر مل بیٹھ کر بات کرینگے۔ اور اگر بندوق کے زور پر ہماری زمینیں قبضہ ہونگی تو ٹھیک ہے ہم نہ بندوق اٹھائینگے نہ لڑینگے ہم اپنی تنطیم اور صفوں کو برابر کرینگے ۔ ہم نے چمن کے جلسے میں بات کی تو انہوں نے گورنر ہائوس میں لوگوں کو بٹھایا تھا کاغذ پکڑوا کر پڑھوارہے تھے کسی سے ایف آئی آر کٹوائی آج تو اچھا ہوگا وہی تیر مولانا صاحب پربھی آزمایا ۔
اس وطن کے دفاع قوم کی خودمختاری ،عزت وآبرو ،تعلیم وترقی کے لیے متحد ہونا ہوگا ۔ ظالم اور مظلوم کے درمیان جنگ تب سے شروع ہوا ہے جب مظلوم نے لفظ (انکار/ نہیں) کہا ۔ یہ انکار کرنا بہادری کی علامت ہے یہ (نا)کرنا ضروری ہے ظالم کے سامنے ۔ بہادر اور بزدل انسان کے درمیان یہ فرق ہے کہ بہادر انسان ایک دن مرتا ہے جبکہ بزدل ہر روز مرتا ہے ۔ سرفراز بابو آپ کی ساری حکومت ان لوگوں کی قاقتل ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سرفراز صاحب جب آپ تکلیف میں تھے آپ کے کئی قبیلے ،تو جوآدمی آپ کو تنگ کررہا تھا ہم ان کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کی محترمہ بے نظیر بھٹو سے درخواست کی تھی انہوں نے آپ کے سینکڑوں گھرانے شیرپائو گائوں شفٹ کیئے پھر جب اکبر بگٹی پر ظلم ہوا اور وہ مظلوم بنے پھر ہم نے ان کا بھی ساتھ دیا اگر چہ اُن کے ساتھ ہمارا اختلاف تھا ۔
ہر ظالم کے مقابلے میں ہم نے مظلوم کا ساتھ دیا ہے ہم نے اپنی پارٹی کے تمام کارکنوں کو یہ سمجھایا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی مظلوم اور ظالم کی جنگ ہو تو ہم نے مظلوم کا ساتھ دینا ہے۔ بلوچ ماما اس صوبے میں پشتونوں کے حقوق کو ماننا ہوگا۔ یہ جو ضلعوں ، تحصیلوں اور ڈویژنز کے نام پر جو کچھ آپ کررہے ہو یہ ٹھیک نہیں ۔ برٹش بلوچستان میں پشتونوں کی جو سرزمین تھی اسے یہاں وہاں شامل۔ زمینوں کی غلط انتقال اورالاٹمنٹ نہ کریں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ظالم اور مظلوم کی لڑائی میں میں مظلوم کا ساتھی ہوں جب اللہ ہمارے ساتھ ہوں اور علماء کی دعائیں ہو تو کوئی بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔









