بلوچستان کے پہاڑوں، شہروں،شاہراہوں اور بستیوں کو محفوظ بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے،مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

21

امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے پہاڑوں، شہروں،شاہراہوں اور بستیوں کو محفوظ بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ صوبے میں پائیدار امن، عدل اور انصاف کے قیام کے لیے اخلاص، دیانت داری اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ طاقتور طبقات نے بلوچستان کے قدرتی وسائل، معدنیات اور خزانوں کو عوام کے لیے ترقی کا ذریعہ بنانے کے بجائے مسائل اور خطرات میں تبدیل کر دیا ہے۔

بلوچستان میں ایف سی کی موجودہ پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے، اس لیے ایف سی کو بلوچستان سے نکالنا ہوگا۔ حکومت اور بااختیار حلقوں کو زیارت دھرنے کے تمام جائز مطالبات ہر صورت تسلیم کرنا ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی دفتر میں مختلف وفود سے ملاقاتوں اور ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کا قیام، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور آئین و قانون کی بالادستی یقینی بنانا وفاقی حکومت اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پورے بلوچستان کو چھاؤنی میں تبدیل کرنوگوایریا بنادیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کی جان ومال غیر محفوظ ہیں۔کروڑوں اربوں روپے سیکورٹی پرخرچ کرنے کے باوجود لوگ اپنے گھروں سے نکلنے، سفر کرنے، بازاروں اور ہسپتالوں تک جانے میں خوف محسوس کرتے ہیں، جبکہ شاہراہیں غیر محفوظ اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر بند ہونے سے تجارت تباہ ہو چکی ہے، صنعت و کاروبار جمود کا شکار ہے، نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے شدید مایوسی کا شکار ہیں اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ بدعنوانی، بدامنی اور بدانتظامی نے پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے نتیجے میں غربت اور بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے، نہ کہ تجارت اور کاروباری معاملات میں مداخلت۔

وسائل اور اختیارات پر چند حلقوں کی اجارہ داری نے بلوچستان کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جبکہ فارم 47 کے ذریعے عوامی مینڈیٹ سے محروم افراد کو اقتدار پر مسلط کیا گیا، جس کے باعث عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ ختم ہو چکا ہے۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام پر ہونے والے ظلم، ناانصافی، جبری گمشدگیوں، بے امنی، معاشی استحصال اور آئینی حقوق کی پامالی پر کبھی خاموش نہیں رہے گی۔

ہم ہر جمہوری، آئینی اور قانونی فورم پر عوام کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ زیارت دھرنے کے شرکاء کے مطالبات جائز اور عوامی امنگوں کے مطابق ہیں، اس لیے حکومت فوری طور پر ان مطالبات کو تسلیم کرے، زیارت واقعے کی شفاف عدالتی تحقیقات کرائے، ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے انہی مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف کوئٹہ سے اسلام آباد تک تاریخی لانگ مارچ کیا تھا اور آئندہ بھی بلوچستان کے عوام کے حقوق، امن، انصاف اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنی جمہوری جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ظلم، ناانصافی، بدعنوانی اور بدامنی کے خلاف جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تاکہ بلوچستان کو امن، ترقی، خوشحالی اور حقیقی عوامی نمائندگی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں