حکومت کا پیٹرول پر80 روپے لیوی وصول کرنے کا اعتراف

12

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرول پر تقریباً 80 اور ڈیزل پر 70 روپے لیوی وصول کر رہی ہے جبکہ لیوی ختم کرنے سے حکومتی آمدن کا متبادل بندوبست کرنا ہوگا کیونکہ اخراجات یا تو لیوی سے پورے ہوتے ہیں یا پھر مہنگائی کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت ہوا جہاں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی پیٹرول کی ضرورت کا 70 فیصد درآمد کرتا ہے، عالمی مارکیٹ میں ریفائن شدہ مصنوعات اب بھی مہنگی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خام تیل سستا ہونے سے پیٹرول لازمی سستا نہیں ہوتا، اوگرا شفاف فارمولے کے تحت قیمتوں کا تعین کرتی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پیلٹس بینچ مارک سے منسلک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران انشورنس اور فریٹ اخراجات کئی گنا بڑھ گئے، بحران کے دوران ملک میں ایک دن بھی ایندھن کی قلت نہیں ہوئی، پیٹرولیم لیوی کی رقم وفاقی خزانے میں جاتی ہے، حکومت قیمتوں کے نظام میں مزید شفافیت لا رہی ہے، پیلٹس کی قیمتیں عوام کے لیے جاری کرنے کی تجویز ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں ڈی ریگولیشن پر کام جاری ہے، نجی شعبے میں مسابقت سے ایندھن سستا ہونے کی توقع ہے، ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے، ریفائننگ صلاحیت بہتر بنانا حکومت کی ترجیح ہے، درآمدی ایندھن پر انحصار کے باعث عالمی قیمتوں کا اثر پڑتا ہے۔

گیس کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری جاری ہے، وزیر پیٹرولیم

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ گیس سیکٹر میں اصلاحات عالمی بینک کے تعاون سے جاری ہیں، گیس سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کیا جا رہا ہے،گیس کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری جاری ہے، ریفائنری پالیسی پر عمل درآمد حکومت کی ترجیح ہے، بندرگاہوں کی تنظیم نو اور گورننس بہتر بنائی جا رہی ہے، توانائی سپلائی تحفظ کے لیے انفرا اسٹرکچر کی توسیع ناگزیر ہے، بڑے کارگو جہاز لانے کے لیے انفرا اسٹرکچر محدود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے، بندرگاہوں پر نائٹ نیویگیشن کی سہولت بھی درکار ہے، توانائی کے تحفظ کے لیے جامع اصلاحات پر کام جاری ہے، گیس سیکٹر میں اصلاحات عالمی بینک کے تعاون سے جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں