پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں وفاق کے زیرِ انتظام پشتون علاقوں، پاٹا (ضم شدہ اضلاع)، پاٹا، مالاکنڈ ڈویژن اور سابق برٹش بلوچستان کے اضلاع ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، دکی، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، نوشکی، چاغی اور دیگر متاثرہ علاقوں کے لیے کئی دہائیوں سے جاری ٹیکس استثنیٰ کے خاتمے اور ان علاقوں کو مختلف وفاقی ٹیکسوں کے دائر? کار میں لانے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں اس فیصلے کو پشتون دشمن، عوام دشمن، استحصالی اور نوآبادیاتی طرزِ فکر کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد پہلے سے محروم، پسماندہ اور جنگ سے متاثرہ علاقوں پر مزید معاشی بوجھ ڈالنا اور انہیں اجتماعی معاشی سزا سے دوچار کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 2018 میں سابق فاٹا کو وہاں کے عوام کی رائے اور مرضی کے برخلاف غیر جمہوری اور غیر آئینی انداز میں ضم کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وفاقی حکومت کی جانب سے واضح وعدے کیے گئے تھے کہ ان علاقوں کو کم از کم دس سال کے لیے ہر قسم کے ٹیکسوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا، سالانہ 110 ارب روپے کی خصوصی مالی معاونت فراہم کی جائے گی، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں اضافی وسائل مختص کیے جائیں گے،
سرکاری ملازمتوں میں چار فیصد کوٹہ دیا جائے گا اور ترقیاتی فنڈز میں نمایاں اضافہ کرکے ان علاقوں کی معاشی اور سماجی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔ تاہم انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ان وعدوں میں سے کسی پر بھی مکمل اور سنجیدہ عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ نہ این ایف سی کے تحت وعدہ شدہ وسائل فراہم کیے گئے،
نہ ترقیاتی منصوبوں کو مطلوبہ سطح پر مکمل کیا گیا اور نہ ہی متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے کوئی جامع پالیسی اختیار کی گئی۔ اب ان ہی علاقوں پر انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، ودہولڈنگ ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی سمیت مختلف نئے ٹیکسوں کا نفاذ ریاست کی جانب سے اپنے سابقہ وعدوں سے واضح انحراف کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پشتون علاقوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گردی، بدامنی، فوجی آپریشنوں، جبری نقل مکانی، بارودی سرنگوں، معاشی تباہی، بے روزگاری اور غربت کی صورت میں ناقابلِ تصور نقصانات برداشت کیے ہیں۔ ان علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، تجارت اور کاروبار شدید متاثر ہوئے ہیں، سرمایہ کاری تقریباً ختم ہو چکی ہے اور لاکھوں نوجوان روزگار کے مواقع سے محروم ہیں۔
ایسے حالات میں ان علاقوں پر نئے ٹیکسوں کا نفاذ نہ صرف معاشی منطق کے خلاف ہے بلکہ آئینی انصاف، انسانی ہمدردی اور سماجی مساوات کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ یہ اقدام متاثرہ آبادی کو مزید پسماندگی، محرومی اور معاشی بحران کی طرف دھکیلنے کی دانستہ کوشش کے مترادف ہے۔
بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سابق فاٹا، مالاکنڈ ڈویژن اور سابق برٹش بلوچستان کے مختلف اضلاع اور علاقوں کو ان کی تاریخی محرومی، جغرافیائی دشواریوں اور غیر معمولی سکیورٹی حالات کے باعث خصوصی آئینی اور معاشی مراعات حاصل تھیں۔ تاہم وفاقی حکومت نے زمینی حقائق، تاریخی پس منظر اور اپنے تحریری وعدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا فیصلہ کیا ہے جو نہ صرف متاثرہ علاقوں کے عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کرے گا بلکہ وفاق اور اکائیوں کے درمیان موجود اعتماد کے رشتے کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ سابق برٹش بلوچستان کے اضلاع آج بھی صاف پانی، بجلی، گیس، صحت، تعلیم، معیاری سڑکوں، صنعت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ دوسری جانب ڈیورنڈ لائن پر قانونی اور روایتی تجارت پر عائد پابندیوں نے مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے،
جس کے باعث ہزاروں خاندانوں کے روزگار کے ذرائع متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں مزید ٹیکسوں کا نفاذ مقامی صنعت، تجارت، سرمایہ کاری، چھوٹے کاروباروں اور عوامی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا اور اس کے نتیجے میں غربت، بے روزگاری اور معاشی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ پشتون وطن کے قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، سرحدی تجارت اور جغرافیائی اہمیت سے وفاق ہر سال اربوں روپے کے فوائد حاصل کرتا ہے، مگر ان وسائل پر پہلا حق رکھنے والے مقامی عوام کو مسلسل محرومی، استحصال اور پسماندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مقامی آبادی کے آئینی و جمہوری حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پارٹی نے اپنے مطالبات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع، مالاکنڈ ڈویژن اور سابق برٹش بلوچستان کے تمام اضلاع اور علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ کو فوری طور پر برقرار رکھا جائے، نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جائے،
ڈیورنڈ لائن پر قانونی تجارت کو بحال کیا جائے، متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی معاشی بحالی پیکیج کا اعلان کیا جائے، این ایف سی سمیت تمام آئینی و مالی وعدوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور پشتون علاقوں کو ان کے قدرتی وسائل پر آئینی، جمہوری اور قانونی حقِ اختیار فراہم کیا جائے۔









