عوام کے حقوق کا تحفظ اور کرپشن کا خاتمہ کیا جائے،پشتونخوامیپ

15

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ لک پاس اس طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں کسٹم حکام کی تحویل میں موجودمال کی آتشزدگی کا واقعہ سراسر مشکوک اور بدعنوانی کی بدترین مثال ہے۔ عوام اور تاجر برادری یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ایسا کیسے ممکن ہے کہ اربوں روپے مالیت کا مال سرکاری قبضے میں موجود سامان اور گاڑیوں میں آگ بھڑکنے سے گھنٹوں کے اندر سب کچھ راکھ کاڈیر بن جاتا ہے اور واقعے کی آڑ میں حقائق کو چھپانے اور ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کے تمام نشانات ختم ہوجاتے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کا واقعہ کوئٹہ کے لک پاس میں پیش آنے والے واقعے کی نوعیت یکساںہیں ۔جہاں مال کی آتشزدگی کے بعد نہ کوئی شفاف تحقیقات ہوئیں نہ کسی ذمہ دار کو سزا ملی اور نہ ہی عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا گیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعہ کو بھی کوئٹہ کی طرح گھمنامے میں ڈال دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کسٹم، ایکسائز اور دیگر متعلقہ فورسز کی جانب سے مختلف شاہراہوں پر قائم غیر قانونی چیک پوسٹوں پرعوام، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کو ہراساں کرنا، گاڑیوں اور ٹرکوں کو بلاجواز روکنا، تلاشی کے نام پر سامان کو نقصان پہنچانا ، گاڑیوں سے ڈیزل نکانا اور مبینہ طور پر بھتہ خوری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔

مانی خواہ سمیت مختلف مقامات پر ٹرکوں، مسافر گاڑیوں اور تجارتی سامان بردار گاڑیوں کو گھنٹوں روکا جاتا ہے، کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا جاتا ہے اور مبینہ طور پر بھتہ خوری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔عوام اور تاجر برادری یہ محسوس کرتی ہے کہ قانون کی آڑ میں ناجائز اختیارات کا استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

یہ طرزِ عمل ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔سرکاری تحویل میں موجود مال محفوظ نہیں جس پر حکومت، متعلقہ اداروں اور احتسابی نظام کی خاموشی پر پارٹی شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ کیونکہ ایک جانب تاجروں کے مال کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس تمام صورتحال سے بدعنوان عناصر فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان آتشزدگی اور کوئٹہ لکپاس کے واقعات کی اعلیٰ سطحی، غیر جانبدار اور عدالتی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائیںاور متاثرہ تاجروں کے نقصانات کا مکمل اور فوری ازالہ کیا جائے تاکہ ان کے معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کا سرحدی انٹری پوائنٹ پر کسٹم کے بعد تمام ملک میں تجارتی سامان لانا لے جانا آزاد ہو ، بے لگام اور من مانے طریقے سے عوام اور تاجروں کو تنگ کرنے کا مکروہ دھندے کا مکمل خاتمہ ہو اور لاء رولز کے تحت باڈر انٹری پوائنٹس پر چیکنگ ہو باقی تمام چیکنگ سوائے رشوت خوری ،عوام کی لوٹ کھسوٹ کے سوا کچھ نہیں جس کا خاتمہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں