حکومت بلوچستان نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں شعبہ صحت کو خصوصی ترجیح دیتے ہوئے مجموعی طور پر 96 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں 90 ارب روپے غیر ترقیاتی جبکہ 6 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں ،
بجٹ میں 500نئی آسامیاں بھی تخلیق کی گئی ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب احمد نوشیروانی نے بدھ کو بلوچستان اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں محکمہ صحت کے غیر ترقیاتی بجٹ میں تقریبا 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،
جس کا مقصد عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، ہسپتالوں کی استعداد کار میں اضافہ، ادویات کی دستیابی اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے نیو ٹراما سنٹر کے اخراجات کی مد میں 1.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح عوام کو مفت اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بلوچستان ہیلتھ کارڈ کی گرانٹ 4.5 ارب روپے سے بڑھا کر 6 ارب روپے کر دی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کے ادارے پی پی ایچ Èئی کی گرانٹ 7.6 ارب روپے سے بڑھا کر 8.8 ارب روپے کر دی گئی ہے، جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ادویات کے بجٹ میں 23 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 6.9 ارب روپے سے بڑھا کر 8.5 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق ضلع کیچ میں تھیلیسیمیا سینٹر کے قیام کے لیے 10 ملین روپے جبکہ گوادر میں تھیلیسیمیا سینٹر کے لیے 9 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح شیخ زید بن النہیان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی گرانٹ 2.2 ارب روپے سے بڑھا کر 2.8 ارب روپے کر دی گئی ہے۔میر شعیب احمد نوشیروانی نے بتایا کہ پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں (PGs) اور ہاس آفیسرز (HOs) کے لیے 1.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،
جبکہ ضلع مستونگ کے نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال کی گرانٹ 400 ملین روپے سے بڑھا کر 735 ملین روپے کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برن یونٹ کوئٹہ کے لیے 400 ملین روپے اور پرنس فہد ہسپتال دالبندین کے لیے بھی 400 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پاک عمان ہسپتال پسنی کی گرانٹ 200 ملین روپے سے بڑھا کر 279 ملین روپے کر دی گئی ہے تاکہ ساحلی علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبے میں غذائی قلت کے خاتمے کے لیے بلوچستان نیوٹریشن پروگرام کے لیے 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ محکمہ صحت میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے کے لیے مالی سال 2026-27 کے دوران 500 نئی Èسامیاں بھی تخلیق کی گئی ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ذریعے عوام کو معیاری، بروقت اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی۔









