بلوچستان میں لاچارگی، بدامنی اور عدم تحفظ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

9

نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں لاچارگی، بدامنی اور عدم تحفظ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا حالانکہ صوبے کے وسائل سے وفاقی نظام چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آئین کے مطابق وفاقی جمہوری ریاست کے بجائے عملاً سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں پارلیمنٹ بے اختیار، عدلیہ محدود اور میڈیا دباؤ کا شکار ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق رکن بلوچستان اسمبلی شہید ہنیڈری مسیح بلوچ کی برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریفرنس سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی، صوبائی صدر اسلم بلوچ، ضلعی صدر حاجی عطائ محمد بنگلزئی، رکن بلوچستان اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، چیئرمین بوئیر صالح بلوچ، چیئرمین محراب بلوچ، انیل غوری اور سونیا خرم نے بھی خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض ریاض زہری نے انجام دیئے۔

تقریب میں خواتین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ شہید ہنیڈری مسیح بلوچ حقیقی معنوں میں ایک نظریاتی سیاسی کارکن تھے جنہوں نے زمان? طالب علمی سے شعوری، ترقی پسند اور وطنی سیاست کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور آخری دم تک قومی اور جمہوری جدوجہد سے وابستہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی شہید رہنما کی سیاسی، قومی اور جمہوری خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔انہوں نے وفاقی بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی اس عوام دشمن بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ بلوچستان کو اس کے وسائل کے باوجود نظرانداز کیا گیا ہے جبکہ صوبہ بدترین معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں آصف نامی شخص کی جانب سے اپنے اہل خانہ کی زندگیوں کا خاتمہ اور بعد ازاں خودکشی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جبکہ ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکنے کا انسانیت سوز واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ خواتین سمیت عام شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

یہ صورتحال ایک سنگین سماجی المیے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ پی ڈی ایم کے واضح نکات میں ریاستی اداروں کی سیاست میں مداخلت کا خاتمہ شامل تھا مگر بدقسمتی سے بڑی سیاسی جماعتیں سمجھوتوں کا شکار ہو کر جمہوری اقدار سے روگردانی کرچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کو وفاقی جمہوری مملکت قرار دیتا ہے لیکن عملی طور پر تمام اختیارات چند ہاتھوں میں مرتکز ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں طاقت کے استعمال سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں، شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، عوام کی جان و مال محفوظ نہیں، غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ حکمرانوں کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت تعلیم، صحت، زراعت اور دیگر اہم شعبے صوبوں کے دائر? اختیار میں آتے ہیں لیکن وسائل اور اختیارات پر وفاق کا غلبہ برقرار ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ صرف منظم، جمہوری اور عوامی تحریک ہی عوام کو ان کے حقیقی حقوق دلا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کی سیاسی جدوجہد اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ عوامی بالادستی، جمہوریت اور قومی حقوق کے لیے تھی اور انہوں نے اپنی زندگی کے بیس سال جیلوں میں گزارے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ نیشنل پارٹی کی ترقی پسند، جمہوری اور عوام دوست سیاست کو تحریک سمجھ کر آگے بڑھائیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کوئٹہ میں مسلسل وسعت اختیار کررہی ہے اور ہزارہ، پشتون سمیت مختلف اقوام میں پارٹی کو پذیرائی مل رہی ہے جو عوام کا پارٹی کی سیاسی جدوجہد پر اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی گرینڈ الائنس کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے،حکومت ملازمین کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرے اور تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔

تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی، صوبائی صدر اسلم بلوچ، رکن بلوچستان اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، حاجی عطائ محمد بنگلزئی، بوئیر صالح بلوچ، محراب بلوچ اور انیل غوری نے کہا کہ شہید ہنیڈری مسیح بلوچ کی پوری زندگی بلوچستان کی قومی، جمہوری اور عوامی جدوجہد کے لیے وقف رہی۔ وہ اصولی سیاست، قومی حقوق اور جمہوری اقدار کے علمبردار تھے اور ان کی سیاسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

مقررین نے کہا کہ شہید مولا بخش دشتی، شہید ڈاکٹر یاسین بلوچ اور میر حاصل خان بزنجو نے بلوچستان میں فکری سیاست، جمہوری اقدار اور بلند کردار کی سیاست کی مضبوط بنیادیں استوار کیں۔ ان رہنماؤں کی جدوجہد آج بھی کارکنوں کے لیے مشعل راہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کبھی اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے، کبھی این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں کٹوتی کرنے، کبھی کراچی اور گوادر پر وفاقی تسلط قائم کرنے اور کبھی قومی اکائیوں کو تقسیم کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں جن کا مقصد وفاقی مرکزیت کو مضبوط بنانا ہے۔

مقررین نے کہا کہ عوام کے ووٹ کے حق کو سلب کرکے فارم 47 کی اسمبلیاں تشکیل دی گئیں تاکہ من پسند فیصلے کیے جاسکیں، تاہم ایسی غیر نمائندہ اسمبلیاں ملک کو سیاسی، معاشی اور آئینی بحرانوں سے نہیں نکال سکتیں بلکہ مزید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل حقیقی جمہوریت، آئین کی بالادستی، عوامی حاکمیت اور صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دینے میں مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں