پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں کوئٹہ خضدار کے میں ہائی وے شھری کے مقام جوانسالہ محمد وقار خان بڑیچ کی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبے میں جاری بدامنی، قتل و غارت اور شاہراہوں پر بے گناہ شہریوں کا خون بہنا وفاقی و صوبائی حکومت اور سیکورٹی اداروں کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جوانسالہ وقار خان بڑیچ اپنی والدہ اور دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ ایک مریض کو علاج کے لیے کراچی لے جا رہے تھے کہ راستے میں دہشت گردوں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا اور انہیں شہید کر دیا۔ یہ افسوسناک واقعہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ صوبے میں عوام کی جان، مال اور عزت کسی بھی سطح پر محفوظ نہیں رہی۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ ریاست، حکومت اور سیکورٹی فورسز کی اولین ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے، لیکن آئے روز قومی شاہراہوں پر مسافروں کے قتل، اغوا اور دہشت گردی کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
اگر ہزاروں چیک پوسٹوں، وسیع سیکورٹی انتظامات اور بھاری بجٹ کے باوجود شہری محفوظ نہیں تو متعلقہ اداروں کو اپنی کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔بیان میں کہا گیا کہ صوبے کے عوام مسلسل خون بہا رہے ہیں جبکہ حکومت محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔ دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد روایتی بیانات جاری کیے جاتے ہیں مگر قاتل دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ صورتحال ناقابلِ قبول ہے اور عوام کے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ وقار خان بڑیچ کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے عوام کے سامنے لایا جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار اداروں کی غفلت کا بھی تعین کیا جائے۔ پارٹی واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ میں مسلسل ناکامی پر حکومت اور متعلقہ سیکورٹی ادارے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔بیان کے آخر میں پارٹی نے شہید وقار خان بڑیچ کے خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس المناک سانحے میں وہ غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور شہید کے لیے جنت الفردوس اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہیں۔ آمین









