سلامتی کونسل اجلاس، پاکستان نے طالبان سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر دیا

2

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے تفصیلی بیان دیتے ہوئے افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی، طالبان کی ناکامیوں اور علاقائی سلامتی کے خدشات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے یو این اے ایم اے کی قائم مقام خصوصی نمائندہ جارجیٹ گیگنن، نائب سربراہ اور دیگر حکام کی بریفنگز پر شکریہ ادا کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ کا نوٹس لیا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے تقریباً نصف دہائی بعد بھی افغانستان نہ تو مکمل امن کی طرف بڑھ سکا ہے اور نہ ہی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پائیدار استحکام حاصل کر پایا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد، سیاسی روابط، تجارت کے فروغ، ٹرانزٹ سہولیات، ویزوں کے اجرا، اعلیٰ سطحی دوروں اور علاقائی تعاون سمیت متعدد اقدامات کیے تاکہ افغانستان بین الاقوامی برادری میں اپنا جائز مقام حاصل کر سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ توقع تھی طالبان ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں گے اور افغانستان کو استحکام و ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

ان کے مطابق افغانستان طویل عرصے سے دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔

سفیر نے کہا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان (ISIL-K)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) اور دیگر گروہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں جن کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائیاں نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال پاکستان کے لیے سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق حالیہ عرصے میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔

صرف 2025 کے دوران 5300 سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 1200 سے زیادہ افراد جان سے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ 9 مئی کو خیبر پختونخوا میں پولیس چوکی پر VBIED حملے میں 15 اہلکار شہید ہوئے جس کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود عناصر نے کی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کو جدید ہتھیاروں اور ڈرونز تک رسائی حاصل ہے جن میں وہ اسلحہ بھی شامل ہے جو افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران چھوڑا گیا تھا۔ اب تک انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں ایسے ہتھیاروں کی ضبطی کے 290 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

سفیر نے کہا کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی کھلی مذمت سے گریز اور ان سے لاتعلقی نہ اختیار کرنا شدید تشویش کا باعث ہے جو ان گروہوں کے ساتھ ممکنہ ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں