گلگت بلتستان انتخابات، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں پر کامیاب

3

گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں انتخاب عمل جاری ہے، ووٹنگ کے بعد اب گنتی اور نتائج موصولی کا سلسلہ جاری ہے۔

اب تک 24 میں سے 18 نشستوں کے مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے9، آزاد امیدواروں نے 5، مسلم لیگ (ن) نے 3 اور مجلس وحدت مسلمین نے ایک نشت حاصل کرلی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں سے اب تک 16 نشستوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے حلقہ 12، 11، 10، 9، 7، 5، 4، 1 اور 19 میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ایکسپریس نیوز کو موصولہ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جی بی اے گلگت 1 کے 80 پولینگ اسٹیشنز سے موصولہ نتائج کے مطابق پی پی کے امیدوار امجد حسین 10594 ووٹ کے ساتھ کامیاب ہوئے جبکہ پی ایم ایل ن کے محمد شفیق الدین 6312 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 2 سے چند پولنگ اسٹیشن کے نتائج موصول ہوئے ہیں جس کے مطابق مسلم لیگ ن کے حافظ حفیظ الرحمن کو دیگر امیدواروں پر سبقت حاصل ہے، پیپلز پارٹی کے جمیل احمد دوسرے اور آئی پی پی کے امیدوار فتح اللہ خان تیسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے تمام 82 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار سید سہیل عباس7877 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ 7361 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 4 نگر 1 میں تمام 53 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی اختر نے میدان مار لیا ہے انہوں نے 7654 ووٹ حاصل کیے جبکہ دوسرے نمبر پر اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری رہے جنہوں نے 6597 ووٹ حاصل کیے۔

جی بی اے 5 نگر 2 کے تمام 32 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج ایکسپریس نیوز کو موصول ہو چکے ہیں اور غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ذوالفقار علی مراد 2705 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے امیدوار ریاض اکبر 2584 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ میں آزاد امیدوار نیک نام کریم 6360 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق دوسرے نمبر پر رہے۔ اسکردو کے حلقوں میں پیپلز پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین کے امیدواروں نے نمایاں کارکردگی دکھائی جہاں مختلف نشستوں پر قریبی مقابلے دیکھنے میں آئے۔

موجودہ گورنر کے بیٹے کامیاب، سابق گورنر راجہ جلال ہار گئے

جی بی اے 7 اسکردو ون کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز میں گنتی مکمل ہوگئی اور غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ سامنے آیا، بڑے برج الٹ گئے، گورنر گلگت بلتستان کے صاحبزادے سید توقیر مہدی کامیاب ہوگئے اور سابق گورنر راجہ جلال ہار گئے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار سید توقیر مہدی 4295 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار راجہ جلال 3849 ووٹ کے ساتھ دوسرے اور ن لیگ کے امیدوار حاجی اکبر تابان 2667 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔

غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق جی بی اے-3 کے حلقے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 7 ہزار 877 ووٹ لے کر جیت گئے، جی بی اے-4 نگر ون سے پاکستان پیپلزپارٹی کے محمد علی اختر نے 7 ہزار 670 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور آئی ٹی پی کے امیدوار محمد ایوب 6491 ووٹ کے ساتھ ہار گئے۔

غیرحتمی نتیجے کے مطابق اسکردو 3 جی بی اے-9 سے پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد نے 6 ہزار 314 ووٹ کے ساتھ سیٹ جیت لی، آئی پی پی کے وزیر محمد سلیم 6 ہزار 106 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق جی بی اے 22 گانچھے سے مسلم لیگ (ن) کے ابراہیم ثنائی نے 9 ہزار 308 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی کی، جی بی اے-23 گانچھے سے آزاد امیدوار انور علی اور جی بی اے-24 سے آزاد امیدوار اسد شفیق نے 8 ہزار 92 ووٹ حاصل کر کے اپنی اپنی نشستیں جیت لیں۔

غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق جی بی اے-13 استور ون سے مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی اور جی بی اے-14 استور ٹو سے مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق نے کامیابی حاصل کی۔

جی بی اے 10 اسکردو میں پیپلز پارٹی کے امیدوار راجہ ناصر علی خان آگے اور ایم ڈبلیو ایم پی کے امیدوار مشتاق حسین دوسرے نمبر پر ہیں۔جی بی اے 15 دیامر ون میں آزاد امیدوار محمد دلپذیر آگے اور پی ایم ایل این کے عبدالواجد دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی اے 16 دیامر2 میں آئی پی پی کے امیدوار عتیق اللہ آگے اور ن لیگ کے محمد انور دوسرے نمبر پر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں