22

،بلوچستان کے غیرت مند عوام،نوجوانوں، طلبہ اور علمائے کرام کی مایوسیوں کا واحد علاج جماعت اسلامی ہے، مولانا ہدایت الرحمن

امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے غیرت مند عوام،نوجوانوں، طلبہ اور علمائے کرام کی مایوسیوں کا واحد علاج جماعت اسلامی ہے۔جماعت اسلامی کی جاری ممبر سازی مہم میں بھرپور حصہ لے کر عوام بلوچستان کو محرومیوں، پریشانیوں،بدامنی،بے روزگاری اور ناانصافی کے دلدل سے نکالنے کیلئے ہمارا ساتھ دیں۔

جماعت اسلامی عوام کو کسی قیمت پر مایوس نہیں کرے گی بلکہ ہر فورم پر ان کے حقوق کی جنگ جاری رکھے گی۔شریف، زرداری خاندان،ججز اور جرنیلوں نے ملک و قوم کو مہنگائی،بے روزگاری،ظلم، کرپشن، بدامنی اور بھاری سودی قرضوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔آج عوام دو وقت کی روٹی، بجلی، پانی، روزگار اور بنیادی سہولیات کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ حکمران طبقہ اپنی مراعات اور اقتدار بچانے میں مصروف ہے۔

ملک کے وسائل چند خاندانوں اور اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام اس فرسودہ اور کرپٹ نظام کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں، اپنی آواز بلند کریں اور حقیقی تبدیلی کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ یہ جدوجہد کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ پورے ملک کے غریب، مظلوم اور محروم عوام کے مستقبل کی جنگ ہے۔

جماعت اسلامی ملک میں اسلامی، جمہوری اور عوام دوست نظام کے قیام کیلئے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ اور خانوزئی میں مختلف وفود سے ملاقاتوں، سیاسی و سماجی شخصیات سے گفتگو اور مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین،علما کرام،نوجوانوں، تاجروں اور جماعت اسلامی کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو جان بوجھ کر پسماندگی کا شکار رکھا گیا ہے۔ صوبے کے قدرتی وسائل سے پورا ملک فائدہ اٹھا رہا ہے مگر یہاں کے عوام آج بھی تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے آئینی، معاشی اور سیاسی حقوق کے حصول کیلئے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مطالبہ کیا کہ تجارت کی بحالی اور عوامی مشکلات کے خاتمے کیلئے بلوچستان کے سرحدی بارڈرز فوری طور پر کھولے جائیں تاکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار بحال ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ امن اور ترقی کیلئے بلوچستان کے وسائل بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر خرچ کیے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ اور میڈیا پر ہر قسم کا دبا ختم کیا جائے، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے اور عوامی نمائندوں کو فیصلے کرنے کا اختیار دیا جائے۔

لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے اور ان کے اہل خانہ کی بے چینی ختم کی جائے۔ سیکیورٹی ادارے سول معاملات میں مداخلت بند کرکے اپنی آئینی ذمہ داری یعنی امن و امان کے قیام پر توجہ دیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے نوجوانوں، خواتین، طلبہ، تاجروں اور محنت کش طبقے کو ساتھ لے کر صوبے میں مثبت سیاسی تبدیلی لانے کیلئے سرگرم عمل ہے۔

ممبر سازی مہم کو گھر گھر پہنچایا جائے گا تاکہ عوام کو دیانتدار، نظریاتی اور خدمت پر یقین رکھنے والی قیادت میسر آسکے۔آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کے دست و بازو بنیں، کرپشن، ظلم، لاقانونیت اور استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کریں اور ایک خوشحال، باوقار اور پرامن بلوچستان کی تعمیر کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں