1

مختلف ڈویژنز، اضلاع اور انتظامی یونٹس کے ناموں، حدود اور جغرافیائی ساخت میں وہاں کے عوام کی مرضی و منشاء کے برعکس تبدیلیوں کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں : پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ مذمتی پریس ریلیز میں فارم 47 کی بنیاد پر قائم نااہل، غیر قانونی اور غیر آئینی صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے کے مختلف ڈویژنز، اضلاع اور انتظامی یونٹس کے ناموں، حدود اور جغرافیائی ساخت میں وہاں کے عوام کی مرضی و منشاء کے برعکس تبدیلیوں کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلے نہ صرف متعلقہ اضلاع اور ڈویژنز کی تاریخی، جغرافیائی اور قومی شناخت پر حملہ ہیں بلکہ یہ ایک منظم سیاسی سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد یہاں کے قوموں و عوام کی قومی وحدت، تاریخی تشخص، انتظامی حیثیت اور قومی حقوق کو کمزور کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ ڈویژن میں ضلع مستونگ کو وہاں کے عوام کی مرضی اور منشاء کے برخلاف شامل کرنے، اسی طرح ضلع زیارت کو سبی ڈویژن سے نکالنے، سبی کے تاریخی نام کو تبدیل کرنے اور سبی ڈویژن میں کچھی کو شامل کرنے جیسے اقدامات نہ صرف عوامی خواہشات، تاریخی حقائق اور زمینی حقیقتوں کے سراسر منافی ہیں بلکہ یہ عوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے زبردستی فیصلے مسلط کرنے کی ایک خطرناک کوشش بھی ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ صوبے کے جغرافیائی، انتظامی اور تاریخی ڈھانچے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی متعلقہ عوام کی رائے، اعتماد اور مشاورت کے بغیر ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ماضی میں بھی حکمران قوتوں نے پشتون اور بلوچ عوام کے درمیان تقسیم، بداعتمادی، انتشار اور نفرت پیدا کرنے کے لیے ایسے غیر جمہوری اور عوام دشمن اقدامات کیے، مگر باشعور عوام نے ہمیشہ ان سازشوں کو ناکام بنایا۔ آج ایک مرتبہ پھر فارم 47 کے ذریعے قائم کی گئی غیر نمائندہ اور عوام دشمن حکومت صوبے کے عوام پر ایسے فیصلے مسلط کرنا چاہتی ہے، جن کا مقصد وسائل، تاریخی شناخت، جغرافیائی حیثیت اور انتظامی اختیارات پر قبضہ جمانا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ضلع زیارت روزِ اول سے سبی ڈویژن کا حصہ رہا ہے اور تاریخی طور پر سردیوں میں سبی ڈویژنل مرکز جبکہ گرمیوں میں زیارت ڈویژنل مرکز کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ زیارت کی اپنی صدیوں پرانی تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی حیثیت ہے اور یہاں کے پشتون افغان عوام اس سرزمین کے حقیقی وارث ہیں۔ لہٰذا زیارت کو سبی ڈویژن سے نکالنے کا فیصلہ وہاں کے عوام کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ اور ضلع سبی میں پہلے ہی غیر فطری طور پر لہڑی کا علاقہ شامل کیا گیاہے جس کا سبی سے کبھی بھی تعلق نہیں رہاہے۔ لہٰذا پارٹی کا مطالبہ ہے کہ لہڑی کو بھی ضلع سے بھی ضلع سبی سے نکالا جائے۔ اسی طرح ضلع مستونگ کو وہاں کے عوام کی مرضی و منشاء کے خلاف کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنا بھی سراسر زیادتی، ناانصافی اور عوامی حقوق پر حملہ ہے۔ اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات اور عوامی حلقوں نے حکومت کے ان فیصلوں کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عوام دشمن حکومت مسلسل ایسے فیصلے کر رہی ہے جن سے صوبے میں مزید بے چینی، بداعتمادی اور سیاسی کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ عوامی امنگوں، تاریخی حقائق اور جمہوری اصولوں کو نظر انداز کرکے کیے جانے والے فیصلے نہ صرف غیر آئینی ہیں بلکہ یہ صوبے کے قومی اور سیاسی مسائل کو مزید پیچیدہ بنانے کا سبب بنیں گے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر ان متنازع فیصلوں کو واپس نہ لیا تو اس کے خلاف بھرپور عوامی، سیاسی اور جمہوری احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس سلسلے میں صوبے کی تمام سیاسی و جمہوری جماعتوں، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات، وکلاء، طلبہ تنظیموں اور باشعور عوام سے رابطے کرے گی تاکہ مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ان عوام دشمن اقدامات کے خلاف مؤثر تحریک چلائی جا سکے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ ان فیصلوں کو عدالت میں بھی چیلنج کیا جائے گا اور ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی فورم پر عوام کے تاریخی، جغرافیائی اور قومی حقوق کا دفاع جاری رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں