حکومت کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ 3.2 کھرب روپے کی ہاؤسنگ فنانس اسکیم میں ایک سنگین آئینی سقم موجود ہے کیونکہ اس اس اسکیم میں سود پر مبنی قرضہ جات دینے کی بات کی گئی ہے جبکہ پاکستان کے مالی نظام سے سود کے خاتمے کیلئے یکم جنوری 2028 کی لازمی آئینی ڈیڈلائن موجود ہے۔
سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ جب اس اسکیم کی ساخت اور مدت کو آئینی تقاضے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تضاد واضح ہو جاتا ہے۔ حکومت نے پانچ سالہ فنانسنگ منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پہلے سال میں پچاس ہزار گھروں کیلئے 321 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ مجموعی لاگت پانچ سال میں 3.2؍ کھرب روپے ہوگی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سود پر مبنی نئے قرضے 2028 کے بعد بھی جاری رہیں گے، جو سود کے خاتمے کیلئے مقررہ آئینی ڈیڈ لائن سے براہِ راست متصادم ہے۔ مزید یہ کہ اس اسکیم کے تحت ہر قرض کی ادائیگی کی مدت 20 سال مقرر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2028 کے قریب یا اس کے بعد جاری کیے جانے والے قرضے بھی دہائیوں تک سود پر مبنی ادائیگیوں سے منسلک رہیں گے۔ یوں یہ اسکیم عملاً سودی مالیات کو مقررہ مدت سے کہیں آگے تک جاری رکھتی ہے، جس سے آئین اور اس کی روح دونوں کے ساتھ ہم آہنگی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔









