مرکزی تنظیم تاجران کے صدر سید عبدالقیوم آغا ، چیئرمین یاسین آغا، اور دیگر رہنمائوں نے کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر لاک ڈائون ختم کرے یا پھر رات 10 بجے تک دکانیں کھولنے کی اجازت دے اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو اتوار کے بعد پریس کانفرنس میں احتجاج کا اعلان کریں گے جس میں احتجاجی ریلی نکالیں گے مظاہرہ کریں گے اور احتجاج کیا جائے گا جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری مالیات حاجی موسیٰ خان خلجی، موبائل ایسوسی ایشن کے صدر صدیق یوسفزئی، چیئرمین شکور آغا، نائب صدر احسان خلجی، ترجمان کاشف حیدری ، کٹ پیس کے صدر صادق آزاد ، کلیم اللہ داوی، قسیم آغا، حاجی عبدالمالک ترین ، اصغر بگٹی ، قیوم کاکڑ ، نیاز کاکڑ ،سلطان خلجی، حبیب اللہ اچکزئی،غوث اللہ سمیت دیگر بھی شریک تھے۔
اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ لاک ڈائون کی ہڑتال میں دکانداروں سے موبائل فون چھین کر تھانے بلاتے ہیں پھر ان سے موبائل فون واپس کرنے کی آڑ میں پیسے لیتے ہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ اس کرپشن کے راستے کو بند کرتے ہوئے لاک ڈائون ختم کرے یا پھر رات 10 بجے تک دکانیں کھولنے کی اجازت دیں حکومت نے جلد بازی میں جنگ زدہ ملکوں نے لاک ڈائون نہ ہونے کے باوجود ملک بھر کی طرح کوئٹہ میں لاک ڈائون کیا ہے جس میں کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنے والی دکانوں ، ہوٹلوں کو بھی زبردستی بند اکر لاک ڈائون کی آڑ میں دکانداروں سے پیسے لئے جارہے ہیں اس لئے حکومت فوری طور پر لاک ڈائون ختم کرے اور لوگوں کو اپنا کاروبار کرنے کی اجازت دے کیونکہ عید الضحیٰ آنے والی اور تاجروں کا تمام کاروبار عید کے موقع پر ہی چلتا ہے پہلے ہی بڑھتے ہوئے ٹیکس مہنگائی نے تاجروں کو مشکلات سے دو چار کر رکھا ہے اگر حکومت نے ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا تو ہم اتوار کے بعد پریس کانفرنس کے ذریعے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کوئٹہ میں احتجاجی ریلی نکالیں گے مظاہرہ کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی









