5

امریکا، اسرائیل اور ایران کشیدگی کے اثرات، پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی

ملک میں معیاری روئی کی محدود دستیابی اور امریکا اسرائیل ایران جنگ سے مشرق وسطی کے کشیدہ حالات دے روئی درآمدی سرگرمیاں معطل ہونے سے گزشتہ ہفتے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رحجان رہا جس سے فی من روئی کی قیمت 500روپے کے اضافے سے 17ہزار روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ عالمی منڈیوں میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پولیسٹر فائبر کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی سے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان میں بھی پولیسٹر فائبر کی فی کلو قیمت میں 30روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے سوتی دھاگے کی قیمت میں تیزی کے باعث روئی کی قیمتوں میں بھی تیزی کا رحجان سامنے آیا ہے۔

مقامی ٹیکسٹائل ملز ملیں رواں سال موسم گرما کے ملبوسات کی تیاری کے لئے گذشتہ سالوں کی نسبت معیاری روئی کی خریداری میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں جسے ابتدائی طور پر اگرچہ درآمدی روئی سے پورا کیا جارہا تھا لیکن جاری عالمی جنگی حالات کے باعث درآمدی روئی کی شپمنٹس معطل ہونے سے ٹیکسٹائل ملوں نے مقامی کاٹن مارکیٹس سے روئی کی خریداری شروع کردی ہے۔

مقامی مارکیٹوں میں معیاری روئی کی انتہائی محمدود دستیابی کے باعث روئی کی قیمت میں 500روپے فی من اضافہ دیکھا جارہا ہے جس میں رواں ہفتے مزید تیزی متوقع ہے اگر قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار رہا تو عید الفطر کے بعد تک فی من روئی کی قیمت 18ہزار روپے کی سطح عبور کرسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نان فرینڈلی صنعتی پالیسیوں کے باعث پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں تسلسل سے کمی برقرار ہے اور توانائی کی قیمتوں میں جاری اضافے کے رحجان سے ملکی برآمدات میں مزید کمی کے خدشات پائے جارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں