128

2025آزمائشوں اور امکانات کا سال

سال 2025 ء پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک ایسا سال ثابت ہوا جسے اگرچہ مکمل بحالی کا سال قرار نہ دیا جائے مگر گزشتہ برسوں کی نسبت اس سال واضح بہتری کے امکانات ضرور دکھائی دیتے ہی۔تاہم یہ سال امید اور اضطراب، اصلاحات اور دباؤ، استحکام اور غیر یقینی کیفیت کا مجموعہ رہا۔ حکومت کی جانب سے معاشی بحالی کے دعوے کیے گئے جبکہ عوامی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری اور قوتِ خرید میں کمی جیسے مسائل نمایاں رہے۔2025ء میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں محدود مگر مثبت اضافہ دیکھا گیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی اور کرنسی مارکیٹ نسبتاً مستحکم رہی، تاہم یہ استحکام زیادہ تر بیرونی قرضوں، آئی ایم ایف پروگرام اور دوست ممالک کی مالی معاونت کے باعث ممکن ہوا۔ داخلی پیداوار، برآمدات اور صنعتی سرگرمیاں وہ رفتار حاصل نہ کر سکیں جو پائیدار ترقی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ مہنگائی اگرچہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہوئی لیکن اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں نے عام آدمی کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر رہا جبکہ متوسط طبقہ تیزی سے سکڑتا دکھائی دیا۔ زرعی شعبہ موسمیاتی اثرات اور سیلابی نقصانات کے باعث مکمل بحالی کی طرف نہ جا سکا جس کا براہِ راست اثر خوراک کی قیمتوں پر پڑا۔حکومت نے ٹیکس اصلاحات، سبسڈیز میں کمی اور سرکاری اخراجات پر کنٹرول کو معاشی بہتری کی بنیاد قرار دیا مگر ان اقدامات کی قیمت عام شہری نے ادا کی۔ ٹیکس نیٹ میں توسیع کی بات ضرور ہوئی لیکن عملی طور پر بوجھ پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقات پر ہی ڈالا گیا۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 2025ء معاشی اعتبار سے ایک عبوری سال رہا۔ ایک ایسا سال جس میں سنگین خرابیوں سے تو بچاؤ تو ممکن ہوا مگر پائیدار ترقی کی بنیاد ابھی مضبوط نہیں ہو سکی۔2025 ء کے اختتام پر اصل سوال یہ نہیں کہ معیشت بچ گئی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان نے آئندہ برسوں کے لیے خود کو بیرونی سہاروں سے آزاد کرنے کی سنجیدہ تیاری کر لی ہے یا نہیں۔
بین الاقوامی تعلقات نئی ترجیحات
2025ء میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ توازن رہا۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں عالمی طاقتیں نئی صف بندیاں کر رہی ہیں پاکستان نے خود کو کسی ایک بلاک تک محدود کرنے کے بجائے کثیر الجہتی سفارتکاری کی راہ اپنائی۔چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات بدستور خارجہ پالیسی کی بنیاد رہے جبکہ سعودی عرب، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیا کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دی گئی۔ مغربی دنیا خصوصاً امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں بھی محتاط بہتری دیکھی گئی جس کا محور تجارت، موسمیاتی امداد اور سکیورٹی تعاون رہا۔پاکستان نے عالمی فورمز پر فلسطین، کشمیر اور اسلاموفوبیا جیسے موضوعات پر اپنا مؤقف واضح انداز میں پیش کیا جس سے سفارتی شناخت مضبوط ہوئی۔ ساتھ ہی ساتھ معاشی سفارت کاری کو ترجیح دی گئی تاکہ سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔تاہم خارجہ پالیسی کے اہداف اس وقت تک مکمل حاصل نہیں ہو سکتے جب تک داخلی سیاسی استحکام اور معاشی خودمختاری حاصل نہ ہو۔ 2025ء نے یہ حقیقت مزید واضح کر دی کہ خارجہ محاذ پر کامیابی، داخلی مضبوطی کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔
امن و امان، حقیقت اور توقعات
2025ء میں ملک عزیز کا سب سے بڑا داخلی چیلنج امن و امان کی صورتحال رہی۔ اگرچہ امن کاقیام ریاست کی اولین ترجیحات میں اولین ترجیح قرار دیا جاتا ہے لیکن 2025ء کے سکیورٹی خدشات گزشتہ برسوں سے زیادہ سنگین نظر آئے۔ دہشت گردی اور سرحدی علاقوں میں بدامنی نے سکیورٹی کے مسئلے کو ایک بار پھر قومی مباحثے کا مرکز بنا دیا۔ملک کے مختلف حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا اوربلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائیاں کیں، قربانیاں دیں اور کئی نیٹ ورکس کو توڑا مگر اس کے باوجود مکمل امن کا حصول ایک مشکل ہدف بنا رہا۔ شہری علاقوں میں جرائم، ڈکیتیوں اور سٹریٹ کرائم کے واقعات نے عوام کے احساسِ تحفظ کو شدید متاثر کیا۔حکومت نے امن و امان کو براہِ راست معاشی استحکام سے جوڑا۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ سرمایہ کاری، سیاحت اور کاروبار اسی صورت پنپ سکتے ہیں جب ماحول محفوظ ہو۔ اسی تناظر میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔تاہم عوامی توقعات کہیں زیادہ تھیں۔
ماحولیاتی چیلنجز اور مستقبل کی تیاری
2025ء ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی بن کر آیا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کی پہلی صف میں کھڑا ہے۔ مون سون کی شدید بارشوں اور سیلاب نے زرعی زمین، انفراسٹرکچر اور انسانی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا۔سیلاب نے نہ صرف ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کیا بلکہ خوراک کی قلت، مہنگائی اور معاشی دباؤ میں بھی اضافہ کیا۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ رہا کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل سست اور غیر مربوط دکھائی دیا۔حکومتی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ابتدائی وارننگ سسٹم اور ماحولیاتی پالیسیوں کی بات تو کی گئی مگر عملی اقدامات محدود رہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پانی کے انتظام، شہری منصوبہ بندی اور زرعی اصلاحات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں نقصانات کہیں زیادہ ہوں گے۔2025ء نے واضح کر دیا کہ ماحولیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی نہیں بلکہ طویل المدتی حکمت عملی درکار ہے۔
معاشی اصلاحات کی پیش رفت
2025ء میں نجکاری اور اقتصادی اصلاحات حکومت کی معاشی پالیسی کا مرکزی ستون رہیں۔ سرکاری اداروں کے خسارے کم کرنے اور مالی نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے نجکاری کو ناگزیر قرار دیا گیا اورپی آئی اے کی نجکاری نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ حامیوں کے مطابق نجکاری سے کارکردگی بہتر، خسارہ کم اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا جبکہ ناقدین نے روزگار، قومی اثاثوں اور شفافیت پر سوالات اٹھائے۔اقتصادی اصلاحات کے تحت ٹیکس نظام، توانائی کے شعبے اور سبسڈیز میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اگرچہ ان اقدامات سے مالی خسارہ کم کرنے میں مدد ملی مگر ان کا فوری بوجھ عام صارف پر پڑا۔حقیقت یہ ہے کہ نجکاری بذاتِ خود حل نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے۔ اگر اسے شفافیت، احتساب اور سماجی تحفظ کے بغیر نافذ کیا جائے تو یہ مسائل کم کرنے کے بجائے بڑھا بھی سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں