ایڈمنسٹریٹر میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ مجیب الرحمن قمبرانی نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے شہریوں کو میونسپل کارپوریشن کی سروسز اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ کو ڈیجیٹلائزیشن پر منتقل کرکے اثاثہ جات کے اعداد و شمار کا ریکارڈ مرتب کرکے آمدن کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ محکمے کی بہتری اور شہر میں صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے موثر روڈ میپ تیار کیا گیا ہے اور صفائی کیلئے 15 روز میں ڈسٹرکٹ کونسل کوئٹہ کے دیگر علاقوں کو صفا کے حوالے کیاجارہا ہے عوام کو شکایات کی سہولت کے لئے ایپ متعارف کرارہے ہیں جس میں با آسانی اپنی شکایت درج کراسکتے ہیں جس پر 24 گھنٹے میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
شہر سے 1300 ٹن کچرا روزانہ کی بنیاد پر اٹھارہے ہیں 500 سے زائد اسٹریٹ لائٹس فعال بنائی ہے 300گھر بیٹھے تنخواہیں لینے والے ملازمین کو نوکریوں پر لائے ہیں، ایم سی کیو کی تشکیل نو کرکے ٹیکس ریونیو ، باغبانی سمیت دیگر شعبوں کی بہتری کیلئے ماہرین تعینات کررہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب کے پروگرام ’’حال احوال ‘‘میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید بھی موجود تھے ۔ ایڈمنسٹریٹر میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ مجیب الرحمن قمبرانی نے کہا کہ میٹروپو لیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی تنظیم نو کر کے ٹیکس، ریونیو، فنانس، باغبانی،فائن آرٹس کے شعبوں میں ماہرین تعینات کئے جارہے ہیں ہم عوام اور حکومت کے درمیان پائے جانے والے اعتمادکے فقدان کو پر کر نے کے لئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں صفائی کا مسئلہ اہم ہے صفاکوئٹہ کے ساتھ صرف 58وارڈز کا معاہدہ کیا گیا تھا جس میں ڈسٹرکٹ کونسل شامل نہیں تھی وزیراعلی کی منظوری کے بعد 15روز میں صفاکوئٹہ کو کچلاک، سریاب، نوحصار سمیت متعدد علاقوں کو شامل کررہے ہیں جس کے بعد مکمل شہر میں صفائی کی ذمہ داری دی جائیگی ساتھ ہی شہر میں سالہا سال سے موجود کچرہ اٹھانے کی مہم شروع کی جارہی ہے جس کی تکمیل پر مارچ میں شہر سے ماضی کا تمام کچرہ اٹھا دیا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں اس وقت یومیہ 1300ٹن سے زائد کچرہ اٹھایا جارہا ہے جبکہ صفاکوئٹہ میں شکایات درج کروانے کے لیے وٹس ایپ نمبر جاری کردیا گیا ہے شہریوں کی درخواست پر 24گھنٹے میں عملدآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن میں دو نئے ونگ بنائے گئے ہیں ہارٹی کلچر (باغبانی )ونگ کے تحت مارچ میں شہر میں شجر کاری مہم شروع ہوگی جس کے تحت شہر بھر میں شجر کاری کرنے کے ساتھ ساتھ درختوں کی دیکھ بحال پر عملہ مامور کیا جائیگااس کے ساتھ ساتھ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی نرسری ، درختوں کی اقسام ، تعداد سمیت دیگر اہم امور کو بھی جدید نظام کے ساتھ منسلک کیا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ فائن آرٹس کے شعبے کے تحت شہر بھر میں مجسمے ، دیواروں پر وال پینٹنگ سمیت دیگر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کیاجا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کو مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے جارہے ہیں جس کے تحت برتھ، ڈیتھ اور میرج سرٹیفکیٹس، میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تمام اثاثوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کیا جائیگا جامعہ بلوچستان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت 10جنوری تک تمام اثاثوں کی جیو ٹیگنگ مکمل کرلی جائیگی جبکہ جلد ہی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی موبائل ایپلی کیشن بھی شروع کردی جائے گی جس سے شہریوں کو آسانی ہوگی اور عوام کی سہولت کیلئے میونسپل سروسز او ر سہولیات کی فراہمی کیلئے ڈیجیٹلائزیشن کررہے ہیں تاکہ شہری گھر بیٹھے یہ سروسز حاصل کرسکیں اور سیکورٹی کا نظام بھی موثر بنارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے قدیم کیفے بلدیہ کو بھی دوبارہ تعمیر کیاجارہا ہے جس کا افتتاح مارچ میں کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کا جائزہ لیکر اسے بہتر بنانے کے لیے کام جاری ہے شہر میں ٹریفک مینجمنٹ کے لیے 100ملازمین کو تربیت فراہم کر رہے ہیں کوئٹہ میں غیر ضروری یو ٹرن اور کٹ بندکرکے بعض علاقوں کو نو پارکنگ اور کچھ کو واکنگ ایریا میں تبدیل کرنے جارہے ہیں تاکہ شہر میں رش کو کم کیا جاسکے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے سریاب روڈ، سبزل روڈ، ائیر پورٹ روڈ، لنک شاہوانی اور لنک بادینی روڈ پانچ شاہراہوں پر تعمیرات پر پابندی عائد کردی ہے شہر میں تجاوزات کے خلاف کاروائی جاری ہے جبکہ تجاوزات دوبارہ قائم نہ ہونے دینے کے لیے بھی معائنہ ٹیم بنائی گئی ہے جو ان چیزوں کو مانیٹر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں آئندہ تین ماہ میں 30پبلک واش روم تعمیر کریں گے جبکہ اگلے مرحلے میں 60واش روم تعمیر ہونگے اس کے علاوہ کوئٹہ شہر میں 100مقامات پر انتظار گاہ بھی بنائے جائیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ 3ماہ میں 500سے زائد اسٹریٹ لائٹس فعال کردی ہیں میں دعویٰ نہیں کرتا بلکہ عملی کام پر یقین رکھتا ہوں اور جو کہتا ہوں وہ کرکے دکھاتا ہوں جس کا میری ماضی کی مختلف محکموں میں تعیناتی ضامن ہے۔ ہر تین ماہ بعد عوام کے سامنے محکمے کی کارکردگی رکھیں گے تاکہ عوام کی جانب سے اٹھائے جانے والے نکات کو بہتر بنان کے لئے اپنی صلاحیتوں کول بروئے کار لاسکیں ۔









