47

تحریک انصاف بند گلی میں

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے حالیہ دو روزہ اپوزیشن کانفرنس سیاسی طور پر مکس حالت کی حامل رہی، کیونکہ مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کی پی ٹی آئی کی تجویز حتمی اعلامیے میں شامل نہ ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت چاہتی تھی کہ علامہ ناصر عباس کی سربراہی میں ایک مذاکراتی کمیٹی قائم کی جائے جو تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کر کے منظم مذاکراتی عمل کا آغاز کرے، لیکن محمود خان اچکزئی کی مخالفت کے باعث یہ ممکن نہیں ہوا۔

اگرچہ اعلامیے میں مذاکرات کے حق میں عمومی شق شامل کی گئی، تاہم مخصوص کمیٹی کے قیام کی تجویز خارج کردی گئی۔ کانفرنس میں بعض شرکاء نے کہا کہ اپوزیشن گزشتہ دو برسوں میں سیاسی طور پر محدود ہو گئی ہے اور اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پی ٹی آئی اب یہ فیصلہ کرنے کی دہلیز پر ہے کہ وہ سڑکوں پر احتجاج جاری رکھے یا مذاکرات کا راستہ اپنائے۔ پارٹی نے اپنے مطالبات کو بھی محدود کر دیا ہے اور اب توجہ صرف اس بات پر مرکوز ہے کہ عمران خان کے اہلِ خانہ اور سینئر رہنماؤں کو جیل میں ان سے ملاقات کی اجازت مل سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا آغاز نہ ہوا تو 2026ء بھی 2024ء اور 2025ء کی طرح سیاسی لحاظ سے مایوس کن ثابت ہو سکتا ہے، حالانکہ مذاکرات فوری ریلیف نہ دیں، لیکن پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں