ٴالیکشن کے ملتوی کرنے پر حکومت نے جمعیت نظریاتی کی موقف کا تائید ،دفعہ 144 مذاق ہے، قاری مہر اللہ

80

جمعیت علما اسلام نظریاتی بلوچستان کے صوبائی کنوئینر مولانا قاری مہراللہ نے کہا کہ الیکشن کے ملتوی کرنے پر حکومت نے جمعیت نظریاتی کی موقف کا تائید تھا دفعہ 144 میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ تمام ورکرز ہر یونین کونسل میں بلدیاتی انتخابات سے بائیکاٹ مہم چلائے۔

عوام اس بدامنی کے حالات میں نہ نکلے جمعیت نظریاتی کی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جن تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا حکومت نے وہی تحفظات اور خدشات کو الیکشن کمیشن کو پیش کی۔ عوام کی خون اتنا سستا نہیں کہ سیاسی جماعتیں ایک کونسلر کے لیے نذر کرے۔ بلدیاتی انتخابات کی انعقاد سے محض قومی خزانہ کا ضیاع ہے بہت سے وارڈوں میں سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی سے کئی وارڈوں میں کونسلر بلامقابلہ منتخب ہوئے۔

بدامنی کی حوالے سے حساس پولنگ سٹیشنوں اور حساس مقامات پر انتخابات ممکن نہیں۔ جگہ جگہ ایف سی کی چوکیاں اور نیٹ ورک کی بندش اور سردی کی موسم میں انتخابات کا فیصلہ دانشمندی نہیں سردی کی موسم میں اکثر ووٹرز گھروں سے نہیں نکل رہی ہے۔ کوئٹہ میں بار بار بلدیاتی انتخابات کو بدامنی کی وجہ سے ملتوی کیا گیا تھا اور آج بدامنی کی حالات ماضی سے زیادہ خراب ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت نظریاتی ایک فکری، دینی اور نظریاتی تحریک ہے۔ اقتدار کی بغیر انسانیت کی خدمت اور دین کی اشاعت اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں عوام کی خدمت اور اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد جمعیت نظریاتی کی منشور کا حصہ ہے انہوں نے کہا کہ قوم کو روایتی ، پیشہ ور، موروثی سیاست کے بجائے اسلامی قومی، مخلص ، باکردار، دیانت دار اور شرافت ، امانت کی سیاست کی ضرورت ہے اقامت ِدین کا یہ فریضہ پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کی سربلندی کے لیے اپنے زندگیوں کو وقف کری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں