عام طور پر موسم سرما میں جسم میں پانی کی کمی کا خیال کسی کے ذہن میں نہیں آتا کیونکہ پسینہ نہ ہونے کے باعث پیاس کا احساس بھی کم ہوتا ہے۔ مگر ماہرین کے مطابق ٹھنڈا موسم بھی ڈی ہائیڈریشن کا باعث بن سکتا ہے، اور چونکہ اس کا احساس نمایاں نہیں ہوتا، اس لیے لوگ اکثر اس کے خطرات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
سرد موسم میں پیاس کم لگتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جسم خاموشی سے پانی کی کمی کا شکار ہونے لگتا ہے۔ طبی رپورٹوں کے مطابق موسم سرما میں ڈی ہائیڈریشن کی کچھ خاص علامات پر ضرور توجہ دینی چاہیے۔
جِلد کا غیر معمولی خشک ہونا
اگر جلد معمول سے زیادہ کھنچنے لگے، ہونٹ بار بار پھٹ جائیں اور لپ بام بھی فائدہ نہ دے، تو یہ صرف سردی کی خشکی نہیں بلکہ پانی کی کمی کی علامت ہوسکتی ہے۔
غیر معمولی نقاہت اور تھکاوٹ
ٹھنڈ میں سستی عام بات ہے، مگر ڈی ہائیڈریشن سے خون کا بہاؤ سست ہونے لگتا ہے جس کے باعث جسم کمزور پڑ جاتا ہے۔
اس تھکاوٹ میں آرام کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور توجہ مرکوز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
بار بار سر درد ہونا
موسم سرما میں سر درد اکثر سردی یا فلو کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق پانی کی کمی بھی سر درد اور چکر آنے کی بڑی وجہ ہے۔
سانس کی بندش یا نتھنوں کے مسائل پہلے سے موجود ہوں تو پانی کی کمی ان کی شدت اور بڑھا دیتی ہے۔
پیشاب کی رنگت میں تبدیلی
پیشاب کا رنگ جسم میں پانی کی سطح کے بارے میں واضح پیغام دیتا ہے۔
گہرا زرد رنگ، یا معمول سے کم پیشاب آنا، خاص طور پر سرد موسم میں کم پانی استعمال کرنے کی نشانی ہے۔
مسلز میں کھچاؤ
سردی میں مسلز اکڑنا عام ہے، مگر پانی کی کمی سے مسلز کے افعال متاثر ہوتے ہیں جس کے باعث کھچاؤ زیادہ تکلیف دہ اور مختلف محسوس ہوتا ہے۔
گلا خشک ہونا اور خراش
اگر گھر کے اندر بھی گلا مسلسل خشک رہتا ہے یا خراش محسوس ہوتی ہے تو یہ بھی موسم سرما میں ڈی ہائیڈریشن کی ایک نمایاں علامت ہے۔









