دنیا بھر میں پلاسٹک کے ننھے ذرات (Microplastics) انسانی صحت کیلئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں، مگر اب ایک نئی امریکی تحقیق نے ان کے براہِ راست دل کے امراض اور فالج کا سبب بننے کا انکشاف کر دیا ہے۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں چوہوں پر تجربات کیے گئے جن میں معلوم ہوا کہ پلاسٹک کے یہ ننھے ذرات خون کی شریانوں میں مواد جمع کرکے انہیں بلاک کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ رکاوٹ ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق نر چوہوں کو کم چکنائی والی غذا دے کر 9 ہفتوں تک مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کا روزانہ سامنا کرایا گیا۔ نتائج میں دیکھا گیا کہ:
دل تک جانے والی شریان میں 63 فیصد زیادہ چربیلا مواد جمع ہوا
سینے میں موجود ایک اور شریان میں 624 فیصد زیادہ مواد پایا گیا
اس کے مقابلے میں مادہ چوہوں کی شریانوں میں ایسا اضافہ بہت کم دیکھا گیا، جس سے محققین نے نتیجہ نکالا کہ یہ خطرہ مردوں میں زیادہ ہو سکتا ہے۔
حیران کن طور پر پلاسٹک کے ذرات سے نہ جسمانی وزن بڑھا اور نہ کولیسٹرول میں اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ شریانوں کو پہنچنے والا نقصان روایتی عوامل کے بغیر بھی مائیکرو پلاسٹک کی وجہ سے ہو رہا تھا۔
مائیکرو پلاسٹک کے ذرات شریانوں میں جمع ہونے والے مواد کے اندر بھی موجود پائے گئے، جبکہ انہوں نے خلیات میں نقصان دہ جینیاتی عمل کو بھی متحرک کیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اب تک کے سب سے مضبوط شواہد فراہم کرتے ہیں کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات براہِ راست دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ اب انسانوں میں اس حوالے سے تحقیق کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انسانی صحت پر اس کے اثرات کو گہرائی سے سمجھا جائے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل انوائرمنٹل انٹرنیشنل میں شائع ہوئے۔









