97

گورننس و کرپشن رپورٹ جاری: بدعبوانی پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار

پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ کے آئندہ ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس سے پہلے اہم شرط پوری کرتے ہوئے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ کی تکنیکی رپورٹ جاری کر دی۔ یہ رپورٹ وزارتِ خزانہ نے پہلی بار سرکاری سطح پر عوام کے سامنے رکھی ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کرپشن پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جس نے دہائیوں سے ادارہ جاتی کمزوریوں کو گہرا کیا اور معیشت کی اصلاحات کو عملی شکل اختیار کرنے سے روک دیا۔

ٹیکس نظام سے عدلیہ تک سنگین مسائل

رپورٹ کے مطابق:

ٹیکس سسٹم میں مزاحمت کرنے والے طاقتور گروہ اصلاحات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

سرکاری اخراجات میں غیر شفافیت نے مالی نظم کو کمزور کیا۔

احتساب کے نظام میں مسلسل کمزوریاں موجود ہیں۔

عدالتی عمل میں تاخیر اور پیچیدگی نے کاروباری ماحول کو متاثر کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ طاقتور طبقے اور سرکاری اداروں سے جڑے مفاداتی گروہ “کرپشن کی سب سے خطرناک شکل” ہیں، جو پالیسی سازی کو یرغمال بنائے رکھتے ہیں۔

آئی ایم ایف کا دباؤ اور پاکستان کی معاشی حقیقت

وزارتِ خزانہ کے مطابق ملکی کرپشن کا دیرینہ مسئلہ معیشت کو مستقل کمزور کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے بار بار قرض لیے، مگر:

بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات نافذ نہ ہو سکیں

گورننس کے بگاڑ کو روکا نہ جا سکا

نتیجتاً پاکستانی عوام معیارِ زندگی میں ہمسایہ ممالک سے پیچھے رہ گئے

یہ رپورٹ آئی ایم ایف کے اس مؤقف سے ہم آہنگ ہے کہ پاکستان میں پالیسی کے تسلسل، ادارہ جاتی استحکام اور بدعنوانی کے انسداد کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں