بھارت کا غرور خاک میں ملایا اور خود کو خطے کا چوہدری سمجھنے والے ملک کو سفارتی دنیا میں تنہا کرکے رکھ دیا۔ پاکستان کو ماضی میں ہونے والی جنگ میں جو کامیابیاں ملیں ان پر تنقیدی آرا سامنے آتی رہیں مگر معرکہ حق کے دوران ملنے والی کامیابیوں پر پاکستانیوں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں، امریکی صدر ٹرمپ دنیا کو بتاتے پھر رہے ہیں کہ پاکستان سات بھارتی طیارے گرا چکا تھا، اگر وہ جنگ نہ رکواتے تو نجانے کتنا نقصان ہو جاتا۔ صدر ٹرمپ پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے کی تقریب کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو بہت اہمیت دی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی عالمی لیڈرز کے سامنے سراہا۔
مئی 2025ء کے بعد سے بھارتی افواج ابھی تک اپنا اعتماد بحال نہیں کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اپنی شکست کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان میں اپنی پراکسیوں کے ذریعے دہشت گردی میں اضافہ کرانا شروع کر دیا۔ پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ذریعے سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں اضافہ ہونے لگا۔ بھارت نے باقاعدہ افغان سرزمین کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی پر وسائل بڑھانے شروع کر دئیے۔ اگرچہ پاکستان یہ بہت پہلے سے کہتا آیا ہے کہ بھارت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان یعنی خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کے ذریعے جبکہ بلوچستان میں بی ایل اے جیسی تنظیموں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے اور اس کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ 2021ء میں افغان طالبان کی عبوری حکومت بنتے وقت پاکستان کے کچھ حلقوں کا خیال تھا کہ اشرف غنی رجیم ختم ہونے کے بعد بھارت کی پراکسیوں کو شاید لگام ڈال دی جائے مگر افغان طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد فتنہ الخوارج نے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔
انہیں افغان طالبان سے سپورٹ ملنے لگی۔ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ کئی مرتبہ یہ معاملہ اٹھایا مگر ان کی جانب سے بے بسی کا بہانہ بنایا جاتا رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت اور افغان طالبان چند ہی روز میں دنیا کے سامنے ایکسپوز ہو گئے جب افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں بھارت کا دورہ کیا ۔ اسی دوران طالبان نے نہ صرف پاکستان پر حملہ کرکے ٹی ٹی پی کی تشکیلیں پار کرانے کی کوشش کی بلکہ بھارت میں بیٹھے افغان وزیر خارجہ نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی بھی کی۔ دنیا کو معلوم ہو گیا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل درست ہے ، بھارت ٹی ٹی اے کی سپورٹ سے ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔
اس دوران پاکستان تحریک انصاف اور اس کی قیادت خصوصاً بانی پی ٹی آئی ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات جیسا بیانیہ بنانے کی کوشش کر تے رہے۔ پاکستان کی موجودہ سول اور ملٹری قیادت اس بات پر قائل رہی ہے کہ دہشت گرد تنظیموں سے بات چیت نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی کی جانی چاہیے، یہی وجہ ہے کہ سیکورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مؤثر انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں، مگر افغانستان کی جانب سے ان دہشت گردوں کے آنے میں بھی اضافہ ہونے لگا اور ہماری فورسز کے کئی افسر اور جوان شہید ہوئے۔ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا اور اس نے افغان طالبان پر واضح کیا کہ اب اگر پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعما ل ہو گی تو پاکستان کو کارروائی کا اختیار ہو گا۔11 اور 12 اکتوبر کی درمیان شب افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی فورسز پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 23 جوان شہید اور 29 زخمی ہوئے۔ اب پاکستانی قیادت کا امتحان شروع ہو چکا تھا۔ جہاں پاکستان نے افغان طالبان کو جواب دینا تھا وہیں اس بات کا بھی خیال رکھنا تھا کہ افغان شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ اسی دوران کچھ حلقوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ پاکستان کو افغان طالبان سے نہیں الجھنا چاہیے۔ ناقدین نے کہا کہ افغان طالبان کو تو روس اور امریکہ شکست نہیں دے سکے، پاکستان اگر لڑائی لڑتا ہے تو پھنس سکتا ہے، مگر پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی دور اندیشی اور فیصلہ سازی نے تاریخ بدل کر رکھی دی۔ وہ طالبان جو اس خوش فہمی میں تھے کہ انہوں نے روس اور امریکہ کو شکست دی انہوں نے پہلے سیز فائر کی درخواست کی اس کے بعد قطر سے ثالثی کیلئے رجوع کیا۔
پاکستان نے افغانستان کی جانب سے شروع ہونے والی جارحیت کو بڑے موقع میں تبدیل کرتے ہوئے افغان سرزمین کے اندر جا کر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ کابل اور قندھار پر پہلی مرتبہ ڈرونز کے ذریعے سٹرائیکس کی گئیں۔ پاکستان نے افغانستان کو واضح کر دیا کہ اب اگر پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہوئی تو سرحد پار جا کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور تباہ کیا جائے گا۔ سب سے خطرناک سٹرائیک افغان صوبے پکتیکا میں 17 اکتوبر کو کی گئی جس میں گل بہادر گروپ کے 12 کمانڈرز سمیت 70 خارجی ہلاک ہو گئے۔ افغان طالبان کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اب معاملات ایسے نہیں چل سکتے۔ قطر اور ترکی کی کوششوں سے دوحہ میں ہونے والی 13 گھنٹے کی بیٹھک میں افغان طالبان نے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی۔ پاکستان کے مؤقف کی جیت ہوئی،ہم نے مشکل فیصلے کے بعد ایک بڑا نتیجہ حاصل کیا۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغانستان سے سیز فائر کیلئے وقت کی کوئی حد مقرر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو بتا دیا ہے کہ سب کچھ صرف ایک شق پر منحصر ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نافذ العمل معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہمارے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ موجودہ ہے۔ پاکستان کی واضح پالیسی کا ہی نتیجہ ہے کہ قطر معاہدے کے بعد دہشت گردی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر افغان طالبان نے پاکستان مخالف عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی تو پاکستان خود یہ کرے گا۔ سول اور عسکری قیادت کی سوچ میں کلیرٹی پاکستان کو نہ صرف دنیا میں نیا مقام دلوا چکی ہے بلکہ پاکستان میں امن و امان میں بہتری کیلئے بھی سود مند ثابت ہوئی ہے۔









