سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے زبیر بلوچ ایڈووکیٹ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیاہےکہ سانحہ دالبندین کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یک بیان میں انہوں نے کہا ہےکہ میجر جنرل سکندر مرزا کے دور سے حالیہ سالوں تک گھروں میں گھس کر قانون و آئین سے ماوراء اتنے قتل نہیں کئے جاتے تھے جتنے اب معمول بن چکے ہیں جیسے کل دالبندین میں ایک مہذب و پرامن و تعلیم یافتہ نوجوان وکیل زبیر بلوچ کو گھر میں گھس کر گولیوں سے بھون ڈالا گیا ہم اس واقعہ کو 26 اگست 2006 کو نواب محمد اکبر خان بُگٹی شہادت کی طرح سینکڑوں بلوچ و پشتون نوجوانوں کی زندگیوں کو گُل کرنے کا تسلسل سمجھتے ہیں اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ افراد کی جبری گم شدگیوں کی غیر آئینی و غیر قانونی عمل کو آئین کے آرٹیکل 4,9,10-A اور 14 کی صریحا خلاف ورزی اور قابل مذمت عمل کو انسانی و اسلامی و شہری و اخلاقی اقدار،چادر اور چاردیواری کے تقدس کو تار تار و پامالی کا دانستہ حصہ سمجھ کر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں دالبندین سانحہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے جیسے جنرل آصف نواز جنجوعہ مرحوم نے ٹنڈو بہاول سندھ کے بے گناہ مزارعین کے خلاف جھوٹے چھاپے میں مارنے جانے پر میجر و کیپٹن و 9 اہلکاروں کو تختہ دار پر لٹکایا تھا۔
سانحہ دالبندین کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے،امان اللہ کنرانی
127









