بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں رواں سال جنوری سے لیکراب تک ہونے والے 30کوئلہ کان حادثات نے 75کان کنوں کی جانیں لے لیں،تواترسے ہونے والے حادثات نے محکمہ معدنیات کے حکام کو پریشان کردیا ،
محکمہ معدنیات کے حکام نے مائنز اونر،مزدور تنظیموں کے نمائندوں اور دیگر اسٹک ہولڈرز کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔محکمہ معدنیات کے حکام کے مطابق رواں سال جنوری سے لیکرپندرہ ستمبر تک صوبے کی کوئلہ کانوں 30کان حادثات ہوئے جن میں 75کان کن جان بحق جبکہ 14زخمی ہوئے ،
کوئلہ کان میں زیادہ تر حادثات دکی ،سورینج،شاہرگ ،ہرنائی کی کانوں میں پیش آئے ، رواں سال صوبے کی کوئلہ کانوں میں مسلسل ہونے والے حادثات نے محکمہ معدنیات کے حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
ابھی ایک کوئلہ کان میں حادثے کی تحقیقات مکمل نہیں ہوتی تو دوسر ا کان حادثہ ہو جاتا ہے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ معدنیات کے حکام نے مائنز اونر،مزدور تنظیموں کے نمائندوں اور دیگر اسٹک ہولڈرز کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔









