39

’’سپر فلو‘‘ کیا ہے؟ بچاؤ کےلیے کیا کیا جائے؟

برطانیہ میں سردیوں کی شروعات کے ساتھ ہی فلو نے غیرمعمولی رفتار پکڑ لی ہے، جس کے باعث نیشنل ہیلتھ سروس شدید دباؤ میں آگئی ہے۔ فلو کے کیسز میں معمول سے زیادہ اضافے کو بعض حلقے ’سپر فلو‘ کا نام دے رہے ہیں، حالانکہ ماہرین کے مطابق یہ کوئی نیا وائرس یا سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ فلو کی ایک سخت لہر ہے جس نے اس بار جلد دستک دے دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق این ایچ ایس کی نیشنل میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر میگھنا پنڈت کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس اور ایمبولینسز پر ریکارڈ دباؤ، ساتھ ہی ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کی ممکنہ ہڑتال، اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق سردیوں کے آغاز ہی میں فلو کی یہ لہر این ایچ ایس کےلیے سال کے مشکل ترین دن لے آئی ہے۔

کیا سپر فلو کوئی نئی بیماری ہے؟

طبی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ ’سپر فلو‘ کی اصطلاح میڈیا میں گردش کررہی ہے، مگر فلو کی شدت اور پھیلاؤ اب بھی فلو سیزن کی معمول کی حدود میں ہے۔ درحقیقت انفلوئنزا وائرس اپنی ساخت بدلتا رہتا ہے تاکہ مدافعتی نظام سے بچ سکے، اسی لیے فلو ویکسین کو ہر سال اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ بعض برسوں میں وائرس زیادہ تیزی سے تبدیل ہوتا ہے اور تقریباً ہر چار سے پانچ سال بعد اس میں بڑی تبدیلی دیکھی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں شدید فلو کی لہر سامنے آتی ہے۔

اس برس فلو کی غالب قسم انفلوئنزا اے (H3N2) بتائی جا رہی ہے، جو 1968 سے موجود ہے اور اب تک اس میں درجنوں بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسی لیے ہر چند برس بعد فلو کی ایسی لہر سامنے آنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔

کون زیادہ متاثر ہوتا ہے؟

کم عمر افراد میں فلو کے زیادہ کیسز سامنے آنے کی ایک بڑی وجہ اسکولوں میں قریبی میل جول ہے، جہاں وائرس آسانی سے پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں اور نوجوانوں کا مدافعتی نظام فلو وائرس سے کم واقف ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بالغ افراد میں مجموعی طور پر انفیکشن کا امکان کم رہتا ہے، تاہم 64 برس سے زائد عمر کے افراد میں پہلے سے موجود بیماریوں اور بڑھتی عمر کے باعث شدید فلو کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ عمر کے ساتھ مدافعتی نظام کی کمزوری کو طبی زبان میں ’امیونوسینیسنس‘ کہا جاتا ہے، جبکہ نوزائیدہ بچے بھی اسی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں