امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر بارودی سرنگیں بچھانے کے بیان پر یوٹرن لیتے ہوئے آبی گزرگاہ کو کھولنے کیلیے چین، جاپان اور جنوبی کوریا سے مدد مانگ لی۔
امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران میں اب تک 7 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، حملوں میں زیادہ تر فوجی اور کمرشل اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ان کارروائیوں نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مزید پڑھیں : ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کا 17واں دن، تہران پر بمباری، دبئی میں ڈرون حملہ
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اتحادی کے علاوہ باقی ممالک ابنائے ہرمز کھلونے میں ہماری مدد کریں کیونکہ امریکا کا ایک فیصد تیل بھی آبنائے ہرمز سے نہیں آتا بلکہ دیگر ممالک آبی گزر گاہ کی بندش سے پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے تمام بارودی سرنگیں بچھانے والے جہاز تباہ کر دیے، ایرانی بحریہ کی مائن بچھانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا اور ہمیں اب تک کوئی تصدیق نہیں کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگر ممالک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں، جو ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں انہیں خود اقدام کرنا ہوگا، آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کو اس کے دفاع میں کردار ادا کرنا چاہیے۔









