35

سرکاری تعلیمی اداروں کے معیارکوٹھیک اورکامیاب بنانے کیلئے وزرا وبیوروکریسی کے بچوں کوسرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کاپابندکیاجائے

امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کوآباد،ترقی دینے اوردیگرصوبوں کے برابرلانے کیلئے تعلیم کوعام ومعیاری کرنے کی ضرورت ہے ہمارانظام تعلیم ملک وقوم کادردرکھنے والے صالح دیانت دارافرادریارکرنے کے بجائیانسانوں کی شکل میں رقم نکالنے،حلال وحرام کی تمیزسے مبرا صرف کمانے والے اے ٹی ایم بنارہے ہیں۔

سرکاری تعلیمی اداروں کویکسرنظراندازکییجارہے ہیں۔سرکاری تعلیمی اداروں کے معیارکوٹھیک اورکامیاب بنانے کیلئے وزرا وبیوروکریسی کے بچوں کوسرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کاپابندکیاجائے۔اسلامی جمعیت طلبا کی تعلیمی خدمات ملک بھرکی طرح بلوچستان بھرمیں بھی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ژوب ڈگری کالج میں اسلامی جمعیت طلبہ ژوب کے زیر اہتمام ایجوکیشنل ایکسپو پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب سے اسلامی جمعیت طلبا بلوچستان کے ناظم بہادر خان کاکڑ مولانا عبدالناصرشہاب زئی فہدخان مندوخیل رفیع اللہ ودیگرنے بھی خطاب کیا تقریب میں ژوب کے تمام تعلیمی اداروں کے طلبا نے شرکت کی۔ایجوکیشنل ایکسپو پروگرام میں مختلف صلاحیتوں کے حامل طلبا میں مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ٹرافی ڈیلڈودیگرانعامات تقسیم کیے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مزیدکہا کہ بلوچستان کوترقی دینے کیلئے تعلیمی اداروں کوآباداورتعلیم کومعیاری ومفت کیاجائے غریب کیلئے الگ اورامیرکیلئے الگ نظام والگ معیار قبول نہیں۔

آج انصاف وتعلیم بیچنے والے ہم پرمسلط ہیں اگرعدالت میں انصاف بکتاہوتوغریب کوانصاف نہیں مل سکتا۔تعلیمی پسماندگی،سفارش،رشوت،نقل،دوہرامعیارنے اہل ولائق طلبا کوپیچھے دھکیل دیا ہے حکمرانوں کے بچے صوبہ وملک سے باہرپڑھنے کے بعدحکمرانی کرنے یہاں آجاتے ہیں بچوں کیساتھ بچیوں کی تعلیم پربھی توجہ دیں تعلیم بچوں کیساتھ بچیوں پربھی فرض ہے اسلامی جمعیت طلبا کے زیرتربیت رہنے والے بچے تعلیم واخلاق اورکردارمیں بہت بہترین ہوتاہے عصری تعلیم کیساتھ دینی تعلیم بھی فرض ہے تعلیم کیساتھ تربیت بہت ضروری ہیاعلی سے اعلی ڈگری مل جائے بڑی سے بڑی تعلیم حاصل کریں لیکن اگرکردارٹھیک نہ ہو۔

لارڈمیکالے کی نہیں معیاری اسلامی نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔پڑھے لکھے جاہل پیداکرنے کے بجائے ایماندارمخلص باصلاحیت صالح تعلیمیافتہ افرادبنانے کی ضرورت ہے۔صلاحیت کیساتھ صالحیت نہ ہو توکامیابی ممکن ہے نہ اللہ تعالی کی رضاوخوشنودی حاصل کی جاسکتی ہی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں