سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی بلوچستان مرتضی خان کاکڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان کے آبائی گھر میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ، جہاں ایک پولیس اہلکار کی غلطی سے چلنے والی گولی کے نتیجے میں ڈگری کالج کی3طلبا اور 2 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، دراصل حکمرانوں کی غیر سنجیدہ پالیسیوں اور غیرضروری سخت سیکورٹی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ گورنر صاحب اپنے آبائی علاقے اور گھر میں بھی اس قدر سخت سیکورٹی کیوں قائم کرتے ہیں کہ نہ صرف عوام بلکہ طلبا بھی عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمران عوام کے ساتھ جڑنے کے بجائے اپنے ہی لوگوں سے خائف ہیں اگر سیکورٹی کا نظام متوازن اور تربیت یافتہ اہلکاروں کیسپردکیاجاتاتو ایسی سنگین غلطی اور افسوسناک واقعہ کبھی رونما نہ ہوتا۔
مرتضی خان کاکڑ نے کہا کہ طلبا اپنے جائز مسائل کے حل اور ملاقات کے لیے آئے تھے لیکن انہیں خیرمقدم کے بجائے گولیوں کاسامنا کرنا پڑا، جوحکومتی نااہلی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان مطالبہ کرتی ہے کہ زخمی طلبا اور اہلکاروں کو فوری علاج معالجہ فراہم کیا جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں اور غیرضروری سیکورٹی پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کو عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لیے عوام کے درمیان رہنے اور ان کے مسائل سننے کی ضرورت ہینہ کہ دیواریں اور سیکورٹی حصار کھڑے کر کے اپنے ہی لوگوں کو خوف و خطر میں مبتلا کرنے کی









