پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک تفصیلی پریس ریلیز میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی اہم شاہراہ ایئرپورٹ روڈ پر واقع نئی تعمیر شدہ سڑک ‘‘تکتو ایونیو’’ کے نام کا سائن بورڈ نامعلوم عوام دشمن عناصر کی جانب سے ہٹائے جانے کے افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اقدام محض ایک بورڈ کو ہٹانے کا واقعہ نہیں بلکہ شہر کی تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی شناخت کے خلاف ایک سوچا سمجھا حملہ ہے، جس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ رات کی تاریکی میں ‘‘تکتو ایونیو’’ کا سائن بورڈ ہٹانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ عناصر دانستہ طور پر کوئٹہ کے تاریخی تشخص کو کمزور کرنے اور عوام کے اجتماعی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پارٹی نے اس عمل کو ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور شہریوں میں احساسِ محرومی اور بے چینی کو فروغ دیتے ہیں، جو کسی بھی طور پر قابلِ قبول نہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے فوری کارروائی یا واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، جس سے عوام میں تشویش اور سوالات جنم لے رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر کی شناخت، عوامی املاک اور تاریخی علامات کے تحفظ کو یقینی بنائیں، مگر اس واقعے نے انتظامی نااہلی اور عدم توجہی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بیان کے مطابق ‘‘تکتو ایونیو’’ صرف ایک شاہراہ کا نام نہیں بلکہ کوئٹہ کی تاریخ، ثقافت اور جغرافیائی شناخت کی علامت ہے۔ تکتو پہاڑ صدیوں سے اس شہر کی پہچان، فخر اور تاریخی ورثے کا حصہ رہا ہے اور مقامی عوام کے جذبات اس سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ اسی پس منظر میں اس شاہراہ کو ‘‘تکتو ایونیو’’ کا نام دینا ایک مثبت، دانشمندانہ اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے والا فیصلہ تھا، جسے مختلف مکاتبِ فکر، سماجی حلقوں اور شہریوں نے خوش آئند قرار دیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے ناموں کو مٹانے یا تبدیل کرنے کی کوشش دراصل مقامی تاریخ اور ثقافتی شناخت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ دنیا بھر کے مہذب معاشروں میں تاریخی اور ثقافتی حوالوں کو محفوظ بنایا جاتا ہے، جبکہ یہاں انہیں متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو نہایت افسوسناک رجحان ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ کوئٹہ ایک کثیرالثقافتی اور تاریخی شہر ہے جہاں تمام قومیتوں اور برادریوں کی شناخت کا احترام ضروری ہے۔
کسی بھی مخصوص تاریخی یا ثقافتی علامت کو نشانہ بنانا دراصل معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی احترام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات سے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو فروغ ملتا ہے، جس کی ہر باشعور شہری کو مخالفت کرنی چاہیے۔ پارٹی نے صوبائی حکومت ، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ ‘‘تکتو ایونیو’’ کا سائن بورڈ فوری طور پر دوبارہ نصب کیا جائے۔
واقعے میں ملوث عناصر کی فوری شناخت کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ شہر کی اہم شاہراہوں اور تاریخی علامات کے تحفظ کے لیے مستقل حفاظتی نظام وضع کیا جائے۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح پالیسی اور نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ عوام کو اس واقعے کی شفاف تحقیقات سے آگاہ کیا جائے تاکہ افواہوں اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر اس سنجیدہ معاملے کو نظرانداز کیا گیا تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی خاموش تماشائی نہیں بنے گی بلکہ اپنے جمہوری، آئینی اور سیاسی حق کو استعمال کرتے ہوئے احتجاجی تحریک، عوامی اجتماعات، سیمینارز اور قانونی اقدامات سمیت ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، وکلائ تنظیموں، طلبہ اور تاجر برادری سے مشاورت کا عمل شروع کیا جا رہا ہے تاکہ شہر کی تاریخی شناخت کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔
ساتھ ہی تمام ضلعی اور مقامی تنظیموں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ عوامی سطح پر آگاہی مہم چلائیں اور شہریوں کو اپنی تاریخ و ثقافت کے تحفظ کے لیے متحد کریں۔ بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کوئٹہ کی تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی ایسے اقدام کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا جو عوامی وقار، مقامی تاریخ اور اجتماعی شناخت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔









