کراچی میں آگ، زلزلہ اور سیلابی صورتحال کے دوران کمانڈ کا مسئلہ حل ہو گیا، کسی بھی قسم کی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے میئر کراچی اتھارٹی ہوں گے، تما م ادارے میئر کی نگرانی میں آپریشن انجام دیں گے۔
کمشنر کراچی حسن نقوی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت اور اعلیٰ سطح پر مشاورت کے بعد اس بات کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اب اس کے لیے قانوں سازی ہو گی۔
انہوں نے کہا سانحہ گل پلازہ اورشہر میں بعض دیگر واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئےسنگل اتھارٹی کے ایم سی کے سپرد کی جائے گی، فائر بریگیڈ، ریسکیو1122، سول ڈیفنس، پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور حکومت سندھ کے اس طرح کے دیگر تمام ادارے ضرورت پڑنے پر میئر کی کمانڈ میں فرائض انجام دیں گے۔
کمشنر کراچی کا کہنا تھا ایمبولینس سروس کا ابھی فائنل نہیں ہوا، میئر کا عہدہ نہ ہونے کی صورت میں کے ایم سی کا انتظامی سربراہ ہیڈ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا میئر کا رول کمانڈ کے لیے بہتر ہے،کے ایم سی کے پاس اس وقت 44 فائر ٹینڈر ہیں جبکہ ریسکیو 1122 کے پاس 11ہیں، کے ایم سی کے پاس میونسپل سروسز کا محکمہ، ہیوی مشینری،سٹی وارڈن اور دیگر مین پاور بڑی تعداد میں موجود ہے جبکہ واٹر اینڈ سیورج کارپوریشن، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا بھی میئر بربنائےعہدہ چیئرمین ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی وابستگی رکھنے والا شخص مضبوط اورزیادہ اثرورسوخ والا ہوتا ہے۔









