سینیٹ میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کے خلاف قرار داد منظور کرلی گئی۔
سینیٹ میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کے خلاف قرار داد منظور کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مسلم ملکوں سے متعلق بیان کی مذمت کی گئی، بیان میں نیتن یاہو نے مسلم ممالک کے خلاف بھارت اور دیگر ممالک پر مشتمل علاقائی اتحاد بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
اس حوالے سے سینیٹر پلوشہ خان کی پیش قرارداد میں کہا گیا کہ اسرائیلی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، اسلامی ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی اقدام کی مخالفت کی جائے گی۔
ایوان نے اسرائیلی قیادت کی جانب سے علاقائی اتحاد بنانے کے بیان کو مسلم امہ کی وحدت کے خلاف قرار دیا اور قرارداد میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں اور اسرائیلی بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ایوان نے کہا کہ اسرائیل کا طرزِ عمل بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی و تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری کے پھیلاؤ کی بھی شدید مذمت کی گئی جب کہ ایوان نے اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں سے فوری انخلا اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔
ایوان نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔









