وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کی جاری مشق کے نتیجے میں اب تک مختلف وزارتوں اور محکموں میں 55 ہزار 545 خالی آسامیوں کو ختم کیا جا چکا یا مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، ساختی اصلاحات کے تحت اب تک 44 ہزار 286 خالی اسامیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ 11 ہزار 259 آسامیوں کو ’’ڈائنگ کیڈر‘‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی یہ اسامیاں خالی ہونے یا موجودہ عہدیداروں کی ریٹائرمنٹ کے بعد بتدریج ختم ہو جائیں گی۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک اعلیٰ ذریعے نے بتایا کہ یہ تازہ ترین اعداد و شمار ہیں، یہ عمل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ کمیٹی کی نگرانی میں جاری ہے، جس کا مقصد وفاقی حکومت کو موثر بنانا، اخراجات میں کمی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
2024ء کے وسط میں شروع کی گئی اس رائٹ سائزنگ مہم میں تمام وفاقی وزارتیں، ان سے منسلک سیکڑوں محکمے اور خودمختار ادارے شامل ہیں۔ اس مشق کا بنیادی ہدف طویل عرصے سے خالی یا غیر ضروری آسامیاں ختم کرنا ہے تاکہ کم سے کم خلل کے ساتھ تنخواہوں کے بجٹ میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جاری معاشی چیلنجز کے تناظر میں بار بار کے اخراجات کو کم کرنے اور وفاقی افرادی قوت کے حجم کو معقول بنانے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ 2024 میں کابینہ نے وفاقی حکومت میں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار آسامیوں کے خاتمے کی منظوری دی تھی، ساتھ ہی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی اجازت دی گئی تھی تاکہ رائٹ سائزنگ سے متاثرہ ملازمین کیلئے مالی پیکیج فراہم کیا جا سکے۔
کابینہ کے فیصلے کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیوں میں سے 60 فیصد کو ختم یا ڈائنگ پوسٹس قرار دیا جانا تھا۔ پنشن کے بوجھ میں کمی کیلئے کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ صفائی، پلمبنگ، باغبانی اور دیگر عمومی و غیر بنیادی خدمات سے متعلق تمام آسامیوں کو آؤٹ سورس کیا جائے۔
حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے وفاقی حکومت میں گریڈ ایک تا 16 تک کے عملے کی تعداد میں نمایاں کمی آئے گی اور پنشن اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگی۔ کابینہ نے وزارتوں اور ڈویژنز میں تمام کنٹیجنسی پوسٹس کے خاتمے کی بھی منظوری دی تھی۔
ذرائع کے مطابق، حکومت نے دانستہ طور پر خالی آسامیوں پر توجہ مرکوز کی تاکہ حاضر سروس ملازمین کی برطرفیوں سے گریز کیا جا سکے۔ ڈائنگ کیڈر قرار دی گئی آسامیاں وقت کے ساتھ ختم ہوتی جائیں گی، جس سے بغیر فوری بے دخلی کے عملے کی تعداد میں تدریجی کمی ممکن ہو سکے گی۔
وفاقی حکومت میں ماضی میں لاکھوں منظور شدہ آسامیوں کی منظوری موجود تھی، جن میں سے ایک بڑی تعداد برسوں سے خالی تھی۔









