بلوچستان میں کینسر کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ تشویش کا باعث بن گیا،رواں سال بارہ ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آ گئے رپورٹ کے مطابق اٹامک انرجی کینسر ہسپتال سینار کی او پی ڈی22 ہزار سے تجاوزکرگئی جبکہ کم عمر افراد میں بھی سرطان کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں.
سال 2024 میں تقریبا 10 ہزارکیسز رجسٹرڈ ہوئے،جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 2 ہزار کے اضافے کے ساتھ 12 ہزار تک جا پہنچی،اٹامک انرجی کینسر ہسپتال سینارمیں سالانہ او پی ڈی 22 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جس سے بیماری کے بڑھتے دبا اور سہولیات پر بوجھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے چھاتی کاسرطان اب کم عمربچیوں میں بھی ظاہرہونا شروع ہوگیا ہے جبکہ خوراک کی نالی،معدہ، چھوٹی اور بڑی آنت کے سرطان کے بڑھتے کیسز نے طبی ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے.
ماہرین صحت کاکہنا ہےکہ غیر متوازن طرزِ زندگی،صنعتی فضلہ،سگریٹ نوشی اور ماحولیاتی آلودگی کینسر کے پھیلا ﺅکی بڑی وجوہات بن رہی ہیں اس کےساتھ بروقت تشخیص کی کمی،احتیاطی تدابیر سے لاعلمی اورصحت سے متعلق شعورکی کمی بھی بیماری کومزید پیچیدہ بنا رہی ہے جس کے باعث مریض تاخیر سے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں. سینار ہسپتال میں زیرِعلاج مریضوں اور ان کے لواحقین نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں جدید سہولیات سے آراستہ کینسر ہسپتال قائم کیا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت اورمقامی سطح پر بہترعلاج میسر آ سکے.
ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص،موثرطبی سہولیات، عوامی آگاہی اورصحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے بغیرکینسر کے بڑھتے کیسز پر قابو پانا مشکل ہو جائےگا،احتیاط اور آگاہی ہی اس مہلک مرض کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار ہے.









