12

جدید غلامی کی بدترین شکل — پرائیویٹ سکولوں کی استانیاں

جدید غلامی کی بدترین شکل — پرائیویٹ سکولوں کی استانیا
پرائیویٹ سکول آج تعلیم کا نام لے کر صرف بزنس کر رہے ہیں۔ چمکتی عمارتوں، بھاری فیسوں اور دکھاوے کے پیچھے *ان خواتین اساتذہ کی دردناک کہانی* ہے جو روز صبح بچوں کو سنوارنے آتی ہیں مگر خود ٹوٹتی جا رہی ہوتی ہیں۔
*📌 روزانہ 6 سے 7 گھنٹے مسلسل کھڑا رہنا*
کرسی تک میسر نہیں، کیونکہ بیٹھنے سے “ڈسپلن خراب” ہو جائے گا۔
بیماری ہو، پیروں میں درد یا خواتین کی مخصوص تکالیف—کوئی رعایت نہیں۔
*📌 تنخواہ قلیل، مگر ذمہ داریاں حد سے زیادہ*
ایک منٹ لیٹ آئیں، کٹوتی! لیکن چھٹی کے بعد کئی گھنٹے بغیر معاوضے کے روکنا معمول۔
ابتدائی مہینوں کی تنخواہیں روک لینا، “سیکیورٹی” یا بہانے سے تنخواہ میں کٹوتی عام سی بات۔
*📌 رویہ تحقیر آمیز، ماحول غیر انسانی*
کپڑوں کی استری ٹھیک نہ ہو، چہرے پر مسکراہٹ نہ ہو، یا بیٹھ جائیں—جرمانہ!
کئی کوآرڈینیٹرز اصلاح نہیں، صرف شکایت بازی اور دباؤ ڈالنا جانتے ہیں۔
*📌 موبائل فون بھی ضبط!*
خدانخواستہ گھر میں ایمرجنسی ہو، تب بھی رابطے کی اجازت نہیں۔
اساتذہ کو “قیدی” بنا دیا گیا ہے، نہ عزت، نہ سہولت۔
💔 سوچیں!
جو استانی خود دباؤ، تکلیف اور تحقیر کا شکار ہو، وہ بچوں کو عزت، خلوص اور کردار کہاں سے سکھائے گی؟
*📣 سوال یہ نہیں کہ یہ نظام ظالمانہ ہے*
*اصل سوال یہ ہے: استاد کب اپنی آواز بلند کریں گے؟*
📌 جب تک استانیوں کو عزت، تحفظ اور حقوق نہیں دیے جائیں گے،
تعلیم کاروبار بنی رہے گی… اور قوم برباد!
*#استانی_بھی_انسان_ہے*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں