13

پاکستان میں نئی فٹبال لیگ کی تیاری، کیا ہم بھارت کی غلطیاں دہرانے جارہے ہیں؟

پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) حال ہی میں منتخب ہونے والے اپنے سربراہ محسن گیلانی کے ماتحت ایک نئی ڈومیسٹک لیگ شروع کرنے کے لیے شرکت کے خواہشمند پارٹنرز تلاش کر رہی ہے۔

اس حوالے سے جاری پبلک نوٹس میں پی ایف ایف نے ممکنہ شراکت داروں سے کہا ہے کہ وہ لیگ میں اپنی دلچسپی اور تفصیلی تجویز اگلے ماہ کے آغاز تک فیڈریشن کو جمع کروائیں۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا یہ نیا مقابلہ پاکستان پریمیئر فٹبال لیگ کے پرانے ماڈل پر مبنی ہوگا جوکہ محکمہ جات اور چند کلبز کا مرکب تھا جبکہ 2019ء کے بعد سے یہ ایونٹ منعقد ہی نہیں ہوا یا پھر یہ فرنچائز پر مبنی ٹورنامنٹ ہوگا۔

پاکستان میں متعدد فرنچائز لیگ کے تاجر فوراً اس لیگ کا حصہ بننے کے لیے قدم بڑھانے کو تیار ہیں کیونکہ ان کے منصوبے برسوں سے زیرِ عمل ہیں۔ صرف ایک چیز کی کمی تھی اور وہ پی ایف ایف کی منظوری تھی۔

محکمہ جات جن میں سے کئی نے اپنی کھیلوں کی سرگرمیاں بدلتی ہوئی ملکی پالیسیز اور پی ایف ایف میں ایک دہائی کے مسائل کی وجہ سے روک دی ہیں اور کلبز کے لیے، تجویز تیار کرنا زیادہ مشکل ہوگا۔ تجویز میں ان ٹیمز پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہوگی جنہیں دوسرے درجے کی پاکستان فٹبال فیڈریشن لیگ کے آخری ایڈیشن سے ترقی دی گئی تھی جو 2020ء میں پی ایف ایف کے لیے فیفا کی مقرر کردہ نارملائزیشن کمیٹی کے تحت منعقد ہوئی تھی۔

پی ایف ایف کی لیگ شروع کرنے کی عجلت کو گزشتہ ہفتے ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کے دورہ پاکستان نے مزید بڑھا دیا ہے۔ شیخ سلمان جو فیفا کے سینئر نائب صدر بھی ہیں، نے لیگ کے انعقاد کے لیے اے ایف سی کی حمایت کو ایک بار پھر واضح کیا۔

ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے سربراہ نے اپنے دورے کے دوران ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں کہا، ’ہم لیگ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ ضروری نہیں کہ ابتدا میں یہ پیشہ ورانہ لیگ ہو لیکن مستقبل میں یہ ایک پیشہ ورانہ لیگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اور اس کا انحصار مارکیٹ کی قدر اور اس کے برقرار رہنے پر ہوگا‘۔

انہوں نے کہا، ’حل یہ ہے کہ صحیح افراد کو لایا جائے جو رہنمائی فراہم کریں اور مشورہ دیں کہ آپ کے ملک میں کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہر ملک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے شاید وہ فارمولا جو جاپان کے لیے فائدہ مند ہے، پاکستان کے لیے کارگر نہ ہو۔ اگر ہم قدم بہ قدم آگے بڑھیں تو ہمیں فرق نظر آئے گا‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں