17

غربت 29 فیصد ہوگئی، 7 کروڑ افراد انتہائی غریب، دولت کی عدم مساوات میں اضافہ؛ سرکاری سروے

پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر29 فیصدتک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 11برسوں کی بلندترین شرح ہے۔لوگوں کی آمدن میں عدم مساوات بھی گزشتہ 27 برسوں کی بلندترین شرح پر ہے ۔

یہ بات جمعے کو جاری سرکاری سروے رپورٹ میں بتائی گئی ہے جو وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے جاری کی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 7برسوں کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدن اور اخراجات میں بڑی تنزلی دیکھی گئی ہے، پاکستان میں اس وقت سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے۔

سال 2018-19ء سے 2024-25ء کے عرصہ کے دوران غربت میں32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2019ء میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی جو2024-25ء میں بڑھ کر28.9 فیصد ہوگئی،2014 کے بعد یہ بلندترین شرح ہے جب غربت کی شرح 29.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔سب سے خطرناک صورتحال دولت کی عدم مساوات ہے جو بڑھ کر32.7 تک پہنچ چکی ہے۔

اس سے قبل دولت کی عدم مساوات کی سب سے بلند شرح 1998ء میں ریکارڈ کی گئی تھی جو31.1 فیصد تھی۔پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروگاری کی بلندترین شرح کا سامنا ہے جو 7.1 ہوچکی ہے۔اسی طرح غربت گیارہ برسوں کی بلندترین شرح پر ہے جبکہ دولت کی عدم مساوات 27 برسوں کی بلندشرح پر پہنچ چکی ہے۔یہ سب حکمران اشرافیہ کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والے سبسڈیز کو واپس لینا پڑا ،جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرمیں بھی گراوٹ آئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں