174

سرکاری ڈاکٹروں کی پرائیوٹ پریکٹس روکنے کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر

کوئٹہ میں ایڈووکیٹ نرگس سمالانی نے سرکاری ڈاکٹروں کی پرائیوٹ پریکٹس کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔ پٹیشن میں چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری صحت بلوچستان سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

نرگس سمالانی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کو پرائیوٹ پریکٹس یا کاروبار کی اجازت نہیں، لیکن اس کے باوجود کوئٹہ میں سرکاری ڈاکٹرز نجی طور پر کام کر رہے ہیں جو کہ قانون اور ضابطے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

پٹیشن پر بلوچستان ہائیکورٹ کے معزز قائم مقام چیف جسٹس جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار حلیمی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت بلوچستان کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں اور وضاحت طلب کی ہے۔

کیس کی پیروی سینئر ایڈووکیٹ محمد ریاض احمد اے ایس سی کر رہے ہیں۔ پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوامی مفاد میں سرکاری ڈاکٹروں کی پرائیوٹ پریکٹس پر فوری پابندی عائد کی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں