34

ری پولنگ میں عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالا گیا، سعید احمد لانگو

جمعیت علماء اسلام کے حلقہ پی بی 36 قلات سے امیدوار سردار زادہ میر سعید احمد لانگو نے کہا ہے کہ حلقے میں ہونے والی ری پولنگ میں رات کی تاریکی میں ٹھپے لگاکر عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈالا گیا جس کے تمام شواہد اور مذکورہ پریزائیڈنگ افسر کے بیان ریکارڈ کا حصہ ہیں اس ناروا عمل کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان اور عدالت سے رجوع کروں گاان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیااس موقع پر پارٹی دیگر رہنماء بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات میں جمعیت علماء اسلام کے ٹکٹ پر حصہ لیا حلقہ میں کل 92 پولنگ اسٹیشنز تھے 95 فیصد الیکشن شفاف ہوئے ماسوائے جوہان گزک، نرمک سمیت 7 پولنگ اسٹیشنوں پر مخالف امیدوار کے کارندے اسلحہ کے زور پر ان 7 پولنگ کے بیلٹ پیپرز اور بکس اٹھا کر لے گئے اور 24 گھنٹوں تک اپنے حق میں ٹھپے لگاتے رہے جب میں اور میرے کارکنوں نے احتجاج کیا تو ڈی آر او نے مجھے 85پولنگ اسٹیشنوں کا رزلٹ دیا جس میں مجھے 2294 ووٹوں کی برتری حاصل تھی دوسرے دن گٹھ جوڑ کرکے میرے مخالف امیدوار کو فارم 47 اور فارم 49 جاری کرکے اسے کامیاب قرار دیا گیا، 10 مارچ 2026ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے 7 پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کا فیصلہ کیا گیا تو سازشوں کے ذریعے مجھے ناکام بنانے کی کوششیں شروع کی گئیں میں نے آر او اور ڈی آر او سے پریزائیڈنگ آفیسران اور یگر اسٹاف کی لسٹ کی فراہمی کا مطالبہ کیا لیکن لسٹ فراہم نہیں کی گئی کیونکہ مذکورہ افسران اور دیگر عملہ میرے مخالف امیدوار کے رشتہ دار اور سیاسی کارکن تھے انتخاب کے دن مخالفین کے ووٹرز اور پولنگ ایجنٹس بھی موجود نہیں تھے7 پولنگ اسٹیشنوں میں کل 8838 ووٹر کا اندراج ہے7 پولنگ اسٹیشنوں میں بیلٹ بکس کی تعداد 92 بنتی ہے مگر ملی بھگت سے 92 بیلٹ بکس میں صرف 34 بیلٹ باکس ان 7 پولنگ اسٹیشنوں میں پائے گئے اور 58 بیلٹ بکس غائب کردیے گئے جو مخالف امیدوار کے لئے رات کی تاریکی اور بند کمرے میں استعمال کئے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں