30

قابل تصدیق یقین دہانی تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا، سینئر سیکیورٹی اہلکار

ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی اہلکار نے واضح کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک افغان طالبان حکومت پاکستان کو دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے قابل تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معاملے میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور آپریشن کا دورانیہ مکمل طور پر زمینی حقائق اور عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔

گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہلکار نے کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف عناصر کے لیے استعمال ہونے دیں گے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور مسخ شدہ مذہبی نظریے کی آڑ میں جنگی معیشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو پاکستانی شہریوں، مساجد اور بچوں پر مسلط دہشت گردی کے تناظر میں دفاعِ خود کے زمرے میں آتے ہیں۔

بتایا گیا کہ اب تک 180 سے زائد چوکیاں تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے، جنہیں دہشت گرد لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

اہلکار نے کہا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات آپریشن کی پیش رفت سے متعلق مسلسل تفصیلات جاری کر رہی ہے اور مکمل شفافیت اختیار کی گئی ہے۔

ان کے مطابق افغان طالبان اور ان کے مبینہ سرپرست سوشل میڈیا اور سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے من گھڑت پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، اس لیے تمام دعوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں