دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بڑی جنگیں اکثر نظریات کے نام پر لڑی جاتی ہیں مگر ان کے پیچھے اصل محرک طاقت، وسائل اور معیشت ہوتے ہیں۔
موجودہ عالمی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی تصویر پیش کر رہی ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئی کشیدگی کو بھی جنم دیا ہے۔
بظاہر یہ تنازعہ سیکیورٹی، جوہری پروگرام یا علاقائی اثر و رسوخ کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے، لیکن گہرائی میں دیکھا جائے تو اس پوری کشمکش کا مرکز تیل، عالمی معیشت اور بڑی طاقتوں کے درمیان بالادستی کی جنگ ہے۔
ایران پر اسرائیلی حملوں اور امریکا کی کھلی یا خاموش حمایت نے اس خطے کو ایک بار پھر عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے اور اسی بنیاد پر مختلف اوقات میں ایران کے اندر سائبر حملوں، سائنس دانوں کے قتل اور فوجی تنصیبات پر کارروائیوں کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
حالیہ کشیدگی میں بھی یہی بیانیہ دہرایا جارہا ہے کہ ایران کے جوہری عزائم کو روکنا ضروری ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس تنازعے کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل خطہ ہے۔ عالمی معیشت کی بڑی طاقتیں اس خطے پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کےلیے ہمیشہ کوشاں رہی ہیں۔ امریکا گزشتہ کئی دہائیوں سے اس خطے میں اپنی فوجی اور سیاسی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
عراق جنگ، افغانستان میں طویل جنگ اور شام کے بحران سمیت کئی واقعات اسی بڑی حکمت عملی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ایران اس پورے خطے میں واحد ایسی بڑی طاقت ہے جو کھلے عام امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کے لیے ایران ہمیشہ ایک بڑا اسٹریٹجک مسئلہ رہا ہے۔
اسرائیل بھی ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ اسرائیلی قیادت کا مؤقف ہے کہ ایران نہ صرف اس کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ خطے میں ایسے گروہوں کی حمایت بھی کرتا ہے جو اسرائیل کے خلاف سرگرم ہیں۔ اس پس منظر میں اسرائیل اور ایران کے درمیان دشمنی صرف سفارتی یا سیاسی نہیں بلکہ اس میں عسکری پہلو بھی شامل ہو چکا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ کشیدگی واقعی صرف اسرائیل اور ایران کے درمیان ہے، یا اس کے پیچھے ایک بڑی عالمی طاقتوں کی رقابت کارفرما ہے؟
درحقیقت موجودہ عالمی منظرنامے میں اصل مقابلہ امریکا اور چین کے درمیان ہے۔ چین گزشتہ دو دہائیوں میں ایک اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور اس کی معیشت مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ چین کی صنعتی ترقی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اسے مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی طرف لے جاتی ہیں۔ ایران چین کے لیے توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چین نے ایران کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی معاہدے بھی کیے ہیں جن کے تحت توانائی، انفرااسٹرکچر اور تجارت کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جو امریکا کو سب سے زیادہ پریشان کرتا ہے۔ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ اگر چین کو مشرقِ وسطیٰ کے تیل تک آزادانہ رسائی حاصل رہی تو عالمی معیشت میں اس کا اثر و رسوخ مزید بڑھ جائے گا۔ اسی لیے امریکا کی کوشش رہی ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اس کی معیشت کو کمزور کیا جائے اور اسے عالمی نظام میں الگ تھلگ رکھا جائے۔
اگر ایران میں کوئی ایسی حکومت قائم ہوجائے جو امریکا یا مغربی ممالک کے قریب ہو تو نہ صرف ایران کے تیل پر مغرب کا اثر بڑھ جائے گا بلکہ چین کے لیے توانائی کے ذرائع بھی محدود ہوسکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف دباؤ اور اسرائیل کے حملے دراصل ایک وسیع تر جیو پولیٹیکل حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ امریکا اور چین براہِ راست جنگ سے گریز کرتے ہیں کیونکہ دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور ایسی جنگ پوری دنیا کو تباہی کی طرف لے جاسکتی ہے۔ اس کے بجائے بڑی طاقتیں بالواسطہ طور پر مختلف خطوں میں اپنے اثر و رسوخ کےلیے مقابلہ کرتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ اس عالمی مقابلے کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔
پاکستان کےلیے بھی یہ صورتحال انتہائی حساس ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات موجود ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔
اگر ایران میں کوئی ایسی حکومت قائم ہوجائے جو مکمل طور پر امریکی اثر و رسوخ کے تابع ہو تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال چیلنجز پیدا کر سکتی ہے کیونکہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا۔
مزید یہ کہ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی اقتصادی اور اسٹرٹیجک تعلقات ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک بڑی مثال ہے۔ اگر امریکا ایران کے تیل پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے تو اس کے اثرات چین کی معیشت اور توانائی کی پالیسی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے چین بھی یہ نہیں چاہے گا کہ ایران میں کوئی ایسی حکومت آئے جو مکمل طور پر امریکا کے زیرِ اثر ہو۔
دوسری طرف ایران بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ اگر وہ اپنے علاقائی اثر و رسوخ اور خودمختاری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ایران کی عسکری حکمت عملی میں میزائل پروگرام، علاقائی اتحادیوں کے ساتھ روابط اور دفاعی تیاری شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
موجودہ کشیدگی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتیں اور بین الاقوامی تجارت سب اس سے متاثر ہوں گے۔ دنیا پہلے ہی یوکرین جنگ اور مختلف معاشی بحرانوں کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ چھڑ جاتی ہے تو یہ صورتحال تیسری عالمی جنگ کے خدشات کو بھی بڑھا سکتی ہے۔
اس تمام صورتحال میں عالمی برادری کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کےلیے مؤثر کردار ادا کرے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دینا ہی اس بحران کا واحد پائیدار حل ہے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگیں وقتی فتح تو دے سکتی ہیں مگر وہ دیرپا امن اور استحکام فراہم نہیں کر سکتیں۔
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی طاقتوں کی رقابت کا حصہ ہے۔ اس تنازعے کے پیچھے تیل، معیشت اور عالمی بالادستی کی سیاست کارفرما ہے۔ اگر عالمی طاقتیں دانشمندی کا مظاہرہ نہ کریں تو یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسے میں دانشمندی اسی میں ہے کہ طاقت کے بجائے مکالمے اور تعاون کے راستے کو اختیار کیا جائے، کیونکہ جنگوں سے کبھی بھی پائیدار امن پیدا نہیں ہوتا بلکہ صرف نئی تباہیوں کے دروازے کھلتے ہیں۔









