فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت بڑے شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہزاروں شہری ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ مظاہروں میں مجموعی طور پر چھ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔
یہ مظاہرے ایک روزہ ملک گیر ہڑتال کا حصہ ہیں جس نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ خاص طور پر ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا، پیرس میں میٹرو اور بس سروس تاخیر کا شکار ہوئی اور کئی روٹس عارضی طور پر بند کرنا پڑے۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ حکومت کی پنشن اصلاحات اور 2026 کے بجٹ مسودے میں شامل پالیسیاں عوام دشمن ہیں جو محنت کش طبقے پر مزید بوجھ ڈالیں گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اصلاحات واپس لی جائیں اور بجٹ میں عوامی سہولتوں کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں۔
یونینز نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات پر غور نہ کیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔









