جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی بلوچستان مرتضی خان کاکڑ نے کہا کہ ژوب بائی پاس کا ٹینڈر مکمل ہوچکا ہے تین بار باقاعدہ سروے بھی کیا گیا ہے اور آخری سروے کے بعد کام فوری شروع ہونا تھامگر تاحال تعمیراتی عمل کا آغاز نہ ہونا انتہائی افسوس ناک ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے کوئٹہ میں ژوب کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیاانہوں نے کہاکہ ساڑھے دس کلومیٹر پر مشتمل یہ بائی پاس غیر گنجان آباد علاقے سے گزرنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ شہر کے تینوں اطراف موجود آبادی کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اور ہیوی ٹریفک شہر میں داخل ہوئے بغیر آسانی سے گزر سکے۔
دنیا کااصول ہے کہ بائی پاس شہر سے باہر نکالی جاتی ہے تاکہ شہریوں کو سکون،تحفظ اور آسانی ملیلیکن بدقسمتی سے ژوب میں ایک مخصوص مافیا نے عوامی مفاد کے اس اہم ترین منصوبے کو یرغمال بنا رکھا ہینہ خود شہر کی بہتری کے لیے کوئی قدم اٹھاتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کو کام کرنے دیتے ہیں۔
ٹینڈر اور سروے مکمل ہونے کے باوجود مختلف بے بنیاد اعتراضات اور دباو کے ذریعے بائی پاس کی تعمیر کو روکنا عوامی دشمنی کے مترادف ہے۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ژوب کے عوام مزید دھوکے، تاخیر اورمافیاکی سازشوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اب وقت ہے کہ لوگ بیدار ہوں اور اپنے حقِ ترقی کے لیے آواز اٹھائیں۔اگر عوام خاموش رہے تو یہ بااثر عناصر ہمیشہ کی طرح شہر کا استحصال کرتے رہیں گے اور ژوب ترقی سے محروم ہی رہے گا۔جماعت اسلامی بلوچستان عوام کے ساتھ کھڑی ہیاور ہم ہر فورم پر ژوب بائی پاس کی فوری تعمیر اور شہر کو ان مافیاز سے نجات دلانے کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھیں گی









