157

ریلوے ٹریک کو اپ گریٹ کرکے کراچی تا سکھر مسافر ٹرین چلانے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر ریلوے کے درمیان ملاقات میں کراچی تا سکھر 6 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے مسافر ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی اپنے وفد کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے وزیر ریلوے حنیف عباسی کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کافی عرصے کے بعد ریلوے کی آنرشپ نظر آ رہی ہے۔

ملاقات میں سینئر وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور توانائی ناصر حسین شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایڈیشنل چیف سیکریٹری بدلدیات، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شام، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، کمشنر کراچی، ایم ڈی (ایس ایس ڈبلیو ایم بی) نجیب اللہ قریشی اور دیگر شریک ہوئے۔

وفاقی وزیر کے وفد میں سیکریٹری ریلویز مظہر علی شاہ، سینئر جنرل مینیجر ریلویز عامر علی بلوچ، ایڈیشنل جنرل مینجر انفراسٹرکچر حماد حسن، ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کراچی محمود رحمان لاکھو اور ڈائریکٹر وفاقی وزیر ریلویز اشفاق احمد شریک ہوئے۔

اجلاس میں کراچی تا روہڑی تک ریلوے لائن کو 6 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے اَپ گریڈ کر کے اَپ ڈاؤن ٹرین چلانے کا فیصلہ ہوا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی تا روہڑی ٹرین اَپ ڈاؤن چلائی جائے تو عوام کو سہولت ہوگی، سندھ حکومت پاک ریلوے کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ سندھ حکومت بھی ریلوے کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کرے گی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کراچی تا سکھر کل 480 کلو میٹرز کا فاصلہ ہے۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ تمام ریلوے لائنز نئی بچھائی جائیں گی، کراچی تا روہڑی ٹرین میں ایئر کنڈیشن کے ساتھ بہترین سہولیات فراہم کریں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایم ایل ون کیماڑی سے شروع ہو رہا ہے جس کی اَپ گریڈیشن ہو رہی ہے۔ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کینٹ اسٹیشن کی سڑک 2018ء میں نئی بنائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں