سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اچانک دل کی دھڑکن تیز چلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے؟
کچھ افراد میں تو یہ احساس جلد ہی ختم ہو جاتا ہے مگر کچھ کا دل معمول سے زیادہ وقت تک تیزی سے دھڑکتا رہتا ہے۔
مگر کیا فکرمندی کی بات ہے؟
ویسے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جانا اور سانس پھول جانا ایک عام تجربہ ہوتا ہے۔
طبی ماہرین نے اس کی چند وجوہات بتائی ہیں جو درج ذیل ہیں۔
جسم کا معمول کا ردعمل
سیڑھیاں چڑھنا سپاٹ سطح پر چلنے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
اس کے لیے مختصر وقت میں جسم کو زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے باعث ٹانگوں اور رانوں کے مسلز کو زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کے نتیجے میں دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے اور پورے جسم میں خون پمپ کرتا ہے تاکہ آکسیجن کی طلب پوری ہوسکے۔
جب سیڑھیاں چھڑنے کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو دل کی دھڑکن ایک سے 2 منٹ میں معمول پر آجاتی ہے۔
دل کی شریانوں کی ناقص حالت
جب آپ ورزش کرتے ہیں تو دل زیادہ محنت کرنے لگتا ہے اور اسی وجہ سے دل کی صحت کو مستحکم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جو افراد ورزش کو معلوم بناتے ہیں جیسے چہل قدمی یا جاگنگ، انہیں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھنے کا احساس بہت کم ہوتا ہے۔
البتہ جسمانی طور پر کم متحرک افراد کو کچھ سیڑھیاں چڑھنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی سرگرمیوں سے دور رہنے والے افراد میں دل کی دھڑکن معمولی سرگرمیوں پر بھی 30 سے 40 فیصد زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔
تناؤ، کیفین اور پانی کی کمی
آپ کا ماحول اور طرز زندگی بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتا ہے۔
جسم میں تناؤ یا انزائٹی بڑھنے پر جسم ایک ہارمون adrenaline کو خارج کرتا ہے جس سے دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔
اسی طرح کیفین کے استعمال سے بھی دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے جبکہ جسم میں پانی کی کمی سے خون کا بہاؤ گھٹ جاتا ہے اور دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔
ایسی حالت میں سیڑھیاں چڑھنے سے دل زیادہ تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔
چھپے ہوئے امراض
کچھ افراد میں سیڑھیاں چڑھنے سے دھڑکن کی رفتار بڑھنا طبی مسائل کی نشانی ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق طبی مسائل جیسے خون کی کمی، تھائی رائیڈ امراض، ہائی بلڈ پریشر یا دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کے شکار افراد کی دل کی دھڑکن کچھ سیڑھیاں چڑھنے پر ہی تیز ہو جاتی ہے۔
تو بیشتر افراد کے لیے سیڑھیاں چڑھنے پر کچھ وقت کے لیے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھنا جسم کا معمول ردعمل ہوتا ہے۔
اگر دل زیادہ وقت تک تیزی سے دھڑکتا رہے، یا سانس لینے میں مشکلات یا سینے میں تکلیف جیسی علامات کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔









